زندہ درخت — Page 333
زنده درخت مجھے اللہ تعالیٰ بے حساب نعمتیں دے گا۔حاسد جل جائیں گے۔جیسے جیسے دشمنی بڑھے کی نعمتوں میں اضافہ ہوگا۔خدا کی قسم جب مرزا صاحب نے یہ بات کی تھی مرزا صاحب اور قادیان کسی شمار میں نہیں تھے۔آپ نے تنہائی میں یہ بات کی تھی مگر رب الارباب نے کس طرح پوری کی اور مجھے غریب کو گواہ بنایا خدا تعالیٰ نے سارے جہاں میں سے مرزا صاحب کو چن لیا۔مجھے خدا نے توفیق دی کہ اندھیرے میں آفتاب نظر آگیا۔بہت بد نصیب اس موتی کو تلاش کرتے کرتے ڈوب گئے۔بعض کو بے حساب خزانے مل گئے۔لوگ معجزے طلب کرتے ہیں جبکہ میں اس گنگا جل میں خوب نہایا ہوں۔دولہا کی تلاش۔ایک تمثیل ایک لڑکی کے نکاح کے لئے بارات آئی اور نکاح کی رسوم ادا کرنے کے لئے ایجاب و قبول کا وقت آیا تو دولہا موجود نہ تھا ڈھنڈیا پڑی دولہا تلاش کیا جا رہا ہے مگر اُس کا کچھ پتہ نہیں شادی کی تاریخ طے ہے مہمانوں میں مسلمان عیسائی سب شامل ہیں کوئی آسمان کی طرف دیکھ رہا ہے کوئی دمشق کے مینار پر سیڑھی لگا کر تلاش کر رہا ہے۔آنے والا ایک ہے اور کئی جگہ کی نشانیاں ہیں کوئی کہ رہا ہے آنا تو اسی وقت تھا پتہ نہیں کیوں نہیں آیا کوئی کہتا ہے آیا تو تھا مگر صلیب سے ڈر کر چوتھے آسمان پر چڑھ گیا۔کوئی کہتا ہے بیت المقدس میں تلاش کرو۔اگر سب حدیثوں کو لفظی طور پر پورا کرنا ہے تو دولہا کے کئی حصے کرنے پڑیں گے۔برات میں ایک قسم کا ماتم پڑا ہے۔اُمت کا حال خراب ہے۔سب لوگ آسمان، بیت المقدس اور دمشق کی طرف دیکھتے رہے اور دلہن کو پریم نگر یعنی قادیان سے آکر ایک دولہا بیاہ کرلے گیا۔سب لوگ حیران رہ گئے۔اُمت کے شریف آدمیوں نے اس دولہا یعنی مرزا صاحب کا دامن پکڑ لیا باقی مسلمان اور عیسائی ابھی تک دولہا کا انتظار کر رہے ہیں۔سید نا محمود کے شکار کا واقعہ: یک دفعہ ہم نے سنا کہ صاحبزادہ صاحب بیٹ میں شکار کو آرہے ہیں۔ہم بھی وہاں پہنچ 333