زندہ درخت — Page 329
زنده درخت کم جو کرنا آج ہے نہ رکھ اوپر کل مرزا سنیا قادیاں اللہ بخش ہن چل ہتے ہالی سے دس کوس پیدل سفر کر کے قادیان پہنچا۔ایک معمولی سا گاؤں تھا۔کوئی مانگنے والا سارے گاؤں سے مانگتا تو اس کا برتن نہ بھرتا لوگ بھی معمولی سے تھے۔ادھر ادھر سے پوچھ کر مسجد پہنچا۔مسجد میں اللہ والے دو بندے بیٹھے تھے۔آنکھوں میں خدا کی محبت سے نمی تھی چہروں پر طمانیت گویا حسن یوسف کی چمک تھی دونوں نے کلاہ و دستار پہنی ہوئی تھی ایک کی سفید اور دوسرے کی نیلی۔میں نے بصد ادب السلام علیکم عرض کیا۔وعلیکم السلام جواب ملا تو میں نے عرض مدعا کیا کہ مجھے مرزا غلام احمد صاحب سے ملنا ہے۔نیلی پگڑی والے نے جن کا نام جان محمد تھا اشارے سے بتایا کہ حضرت یہ ہیں۔میں نے مصافحہ کیا اور اپنا حال بیان کیا۔میری کیفیت عجیب تھی اُن کی محفل میں بیٹھے بیٹھے ظہر کا وقت ہو گیا اذان ہوئی سنتیں ادا کیں۔تکبیر کہی گئی جان محمد صاحب نے امامت کی۔پھر کہی تکبیر پھر لگے گرن قیام جان محمد ہو گیا آگے کھڑا امام ایہہ تماشا عجب ہے وچ خیال عوام امام تمام جہان دا پیچھے کرے قیام عاماں نوں اس بات دی ہرگز قدر نہ سار کی نج درجہ رکھ دے جو نبیاں دے یار میرے پاس ایک کتاب تھی جس کا نام تو قیر الحق تھا اس پر تین سو کے قریب علماء کی مہریں تھیں حنفی عقیدے پر مستند کتاب تھی۔حضرت نے اس کتاب کے متعلق فرمایا مولوی عجیب طرح سے بات نکال کر اپنے مطلب کی بات نکال لیتے ہیں۔میں رات وہیں رہ گیا تھا۔کچھ دیر تو باتیں سنتا رہا پھر مجھے بہت نیند آگئی میں زیادہ جاگ نہیں سکتا بے خود سو گیا۔329