زندہ درخت

by Other Authors

Page 325 of 368

زندہ درخت — Page 325

زنده درخت اور دنیوی علوم کا ماہر انسان بھیج دے۔جو انہیں دین بھی سکھائے اور بیماروں کا علاج بھی کرے۔انہوں نے اُس کی بڑی آؤ بھگت کی اس پر خدا کا فضل آگے سے بھی بڑھ کر ہونے لگا۔اور وہ اور زیادہ مال دار ہو گیا۔حاسدوں کو بھی پتہ لگ گیا۔وہ اور زیادہ جل گئے۔حاسد کی بیوی نے اسے کہا کہ میاں جاؤ اگر موقع ملے تو اُسے مار کر واپس آؤ۔حاسداس صالح مرد کے پاس گیا۔صالح بہت خوش ہوا۔بڑے تپاک سے ملا۔خیر خیریت پوچھی اور دریافت کیا کہ کیسے تشریف آوری ہوئی۔حاسد نے کہا حضور کا پتہ لگا۔زیارت کو بہت دل چاہتا تھا ملنے کے لئے آیا ہوں۔اب زیارت ہوگئی۔اجازت چاہتا ہوں۔صالح نے فرمایا کہ سنتِ نبوی کے مطابق تین دن بعد اجازت ہوگی۔تین روز کے بعد چند صد دے کر رخصت کیا۔حاسد جب مال لے کر گھر پہنچا تو بیوی بہت خوش ہوئی۔مگر صالح کے زیادہ مالدار ہونے کا حال سُن کر بہت ہی شکستہ حال ہوئی اور کہنے لگی ہم تو سمجھے تھے وہ مرکھپ گیا ہو گیا ہوگا۔مگر اُسے کوئی زوال بھی نہیں پہنچا۔جاؤ میاں جس طرح بھی مرے مار کر آؤ۔حاسد پھر گیا۔صالح نے آنے کا مقصد پوچھا۔کہنے لگا۔حضور کی محبت پھر کھینچ لائی ہے۔پہلے حضور کے مکان اور باغات کا اچھی طرح سیر نہ کیا تھا۔اب سیر کرنا چاہتا ہوں۔چنانچہ صالح نے تین طرفیں باغ کی دکھا ئیں۔اور چوتھی طرف جانے سے منع کیا اور کہا کہ اس گوشے میں ایک کنواں ہے۔جسے اندھا کنواں کہتے ہیں اُس میں جن رہتے ہیں۔خوف ہے کہ جان سے ماردیں گے۔حاسد نے یہ سن کر زیادہ اصرار کیا۔چنانچہ دونوں کنوئیں کے پاس گئے حاسد کنوئیں کی دیوار پر جا بیٹھا اور نیچی نظر کر کے کہا کہ اس میں کوئی جن نہیں آئیے آپ بھی دیکھیں۔صالح نے بھی کنارے پر جا کر دیکھنا شروع کیا۔نظر بچا کر حاسد نیچے اُترا اور اُس کو دھکا دے کر کنوئیں میں گراد یا اور خوشی خوشی گھر آیا عورت کو حال سنایا وہ بڑی خوش ہوئی۔اب صالح کا حال سنو جس کنوئیں میں وہ گرا تھا واقعی اس میں جن تھے۔نیچے جانے نہ پایا تھا کہ جن نے پکڑ کر محفوظ جگہ میں رکھ دیا۔باقی جن مخالف ہوئے اور کہنے لگے کہ اس کو ضرور مار دینا چاہئے۔مگر اس نے کہا کہ یہ ایک جید عالم اور اعلیٰ درجے کا طبیب بھی ہے۔اسے مارنے 325