زندہ درخت — Page 319
زنده درخت احمدیت سے محروم رہے تاہم بھائی کی پارسائی کی وجہ سے اس حد تک متاثر تھے کہ مخالفت نہ کرتے تھے۔اللہ بخش صاحب نے فارسی اور عربی زبانیں سیکھیں۔علم طب میں مہارت حاصل کی پنجابی کے مقبول شاعر بھی تھے ان اوصاف کے حامل کو احتراما خلیفہ صاحب“ کہا جانے لگا بعد میں آپ اسی عرف سے پہچانے جاتے۔ابتدا میں آپ نے محکمہ انہار میں ملازمت کی نہر میں پانی چھوڑنے اور پل پر مشین میں تیل لگانے کا کام کیا جس کا ایک دلچسپ واقعہ سناتے تھے کہ ایک دفعہ ایک انگریز افسر آیا اُس نے ملازمین سے مشینوں کے لئے دیئے گئے تیل کا حساب مانگا۔ہند و ملازم نے جواب دیا، میں دھرم سے سارا تیل مشینوں میں لگاتا ہوں۔پھر مسلمان سے پوچھا تو جواب دیا ، ایمان سے سارا تیل لگا دیتا ہوں۔پھر حکیم صاحب سے پوچھا تو آپ نے جواب دیا ، ہاتھ سے سارا تیل لگاتا ہوں اس جواب سے افسر بہت محظوظ ہوا۔اور اکثر اس بات کا ذکر کرتا۔یہ ابتدائی ملازمتیں تھیں بعد میں آپ بطور مدرس ( ٹیچر ) کام کرتے رہے۔اور اپنے علم حکمت وطب سے بھی لوگوں کو فیض پہنچاتے رہے۔علم کی پیاس نے آپ کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کے دعوی سے بھی قبل متعارف کروادیا تھا۔آپ کا شمار ہے بالی ضلع گورداسپور کے ابتدائی احمد یوں میں ہوتا ہے۔بیعت کی سعادت حاصل ہوئی تو مخالفت کا شدید طوفان اُٹھا وہی گاؤں جہاں آپ کو خلیفہ صاحب پکارا جاتا تھا اور ہر قسم کے دینی و دنیاوی معاملات میں آپ سے رجوع کرتے تھے دشمنِ جان ہو گیا۔شدید سوشل بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔سختیاں برداشت کیں۔مگر گاؤں والوں کا بھلا ہی چاہتے رہے۔گالیاں سُن کر دعا ئیں اور دکھ پاکے آرام دیتے رہے اللہ تعالیٰ نے مدد کی اور اشد مخالف مولوی صاحب کے دو بیٹے محترم منشی سبحان علی صاحب اور محترم منشی رمضان علی صاحب احمدی ہو گئے۔اس طرح گاؤں میں احمدیت کا پودا بڑھنا شروع ہوا۔آپ کو اپنے گاؤں والوں کی حالت دیکھ کر بے حد صدمہ ہوتا اور کوشش کرتے 319