زندہ درخت — Page 30
زنده درخت والوں نے بھی سنا کہ فلاں جہاز فلاں تاریخ کو ڈوب گیا ہے۔میرے گھر کے لوگ روتے پیٹتے ہوئے حضرت صاحب کے پاس پہنچے اور روروکر کہنے لگے کہ حضور سنا ہے کہ فلاں جہاز جس پر حامد علی صاحب سوار تھے ڈوب گیا ہے۔حضرت صاحب نے ان کی چیخ پکار سن کر فرمایا ہاں میں نے بھی سنا ہے کہ فلاں جہاز ڈوب گیا ہے اور اس میں حامد علی بھی تھے۔مگر پھر تھوڑی دیر خاموش رہے اور کچھ جواب نہ دیا۔چند منٹوں کے بعد بلند آواز سے فرمایا کہ صبر کر و حامد علی صاحب اللہ کے فضل سے زندہ ہے۔وہ ہمارا کام جس کے واسطے گیا ہے کر رہا ہے۔( یہ واقعہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی زندگی کے آخری خطبہ میں حضرت دادا جان کے حوالے سے بیان فرمایا تھا۔) ایک دفعہ میں عید کی نماز ادا کرنے کے لئے قادیان شریف آیا۔جب نماز ادا کر چکے تو مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم ( اللہ تعالیٰ کی ان پر ہزاروں رحمتیں ہوں) نے حضرت کے حضور حاضر ہو کر عرض کی کہ حضور نے فرمایا تھا کہ عید کے دن اللہ تعالیٰ کوئی نشان ظاہر کرے گا اور آج عید کا دن ہے۔حضور نے فرمایا بیٹھ جاؤ تب سب لوگ ( بیت ) میں زمین پر بیٹھ گئے۔اور حضور نے کرسی پر بیٹھ کر عربی زبان میں خطبہ شروع کر دیا۔بہت سے دوستوں نے قلم دوات کاغذ لے کر لکھنا شروع کیا اور جو کچھ حضور فرماتے لکھنے والے لکھتے جاتے۔جب کوئی لفظ کسی کی سمجھ میں نہ آتا تھا تو حضور سے پوچھنے پر لفظ مع تلفظ بتلا دیتے۔اس وقت حضور اس طرح زبان مبارک سے الفاظ نکالتے تھے کہ گویا کتاب آگے رکھی ہوئی ہے جس سے دیکھ دیکھ کر پڑھتے ہیں۔کتاب سے پڑھنے والے بھی کبھی رک ہی جاتے ہیں مگر حضور بالکل نہیں رکھتے تھے۔میں حضور کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور حضور کی طرف میری آنکھیں لگی ہوئی تھیں حضور کا رنگ اُس وقت سرسوں کے پھول کی مانند تھا۔آنکھیں بند رکھے ہوئے تھے اور کبھی کبھی کھول لیتے تھے۔ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ہمارے گاؤں میں ایک جگہ مکانوں کے درمیان سفید پڑی ہے۔وہاں حضرت اقدس " مجھ کو بغل گیر کر کے مشرق سے مغرب کی طرف 30