زندہ درخت — Page 281
زنده درخت بہاروالوں میں بیاہی گئی ہو اور تیسرے لکھتی لکھاتی رہتی ہو۔امی جان کے ذکر میں ایک واقعہ خاص طور پر یاد کرتی ہیں جو میرے بھتیجے عزیزم آصف محمود باسط صاحب کی درخواست پر آپ نے ہمارے لئے تحریر فرمایا۔خاکساراپنے سارے خاندان کی طرف سے صاحبزادی صاحبہ کے شکریہ کے ساتھ یہ تحریر کتاب کی زینت بنارہی ہے۔بھائی عبدالرحیم صاحب درویش مرحوم کی بیگم صاحبہ نہایت ہی دین دار نیک اور پر خلوص خاتون تھیں۔بہت ہی محبت کرنے والی ، بہت ہی کم گو تھیں لیکن جب مالتیں مسکراتے ہوئے چہرے سے ملتیں۔عجیب سی معصومیت تھی اُن کے چہرے پر جو میں کبھی نہیں بھول سکتی مجھے تو زیادہ تر قادیان میں ہی اُن سے ملنے کا موقع ملا کیونکہ جمعہ کی نماز کا مستورات کا انتظام ہمارے گھر کی نچلی منزل میں ہوتا تھا اور پھر ہفتہ کے دن صبح قرآن کریم کا درس بھی حضرت فضل عمر وہیں پر دیتے تھے۔وہ ہمیشہ بغیر ناغہ کے جمعہ کی نماز اور درس میں شریک ہونے کے لئے آتیں ویسے وہ گھر سے شاید بہت ہی کم نکلتی تھیں۔ان کی زندگی کا مقصدا اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت ہی تھا اُنہوں نے اپنے بچوں کی تربیت نہایت ہی اعلیٰ رنگ میں کی۔تقسیم ملک کے بعد اُن کے شو ہر محترم تو قادیان میں درویش ہو گئے اور وہ بچوں کو لے کر ربوہ آگئیں۔یہ وقت اُن کے لئے ہر طرح سے صبر آزما تھا چھوٹے چھوٹے بچے لے کر ایک عورت کے لئے اکیلے رہ کر تعلیم و تربیت کرنا کس قدر مشکل تھا یہ وہی جانتے ہیں جن کو ان حالات سے گزرنا پڑے۔اتنا بڑا بوجھ ایک عورت کے کمزور کندھوں پر پڑ سیالیکن یہ وقت بھی اُنہوں نے نہایت صبر اور حیرت انگیز دانش مندی سے گزارا۔لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی اور ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی پھر خدمت دین کا جذبہ اور دینی غیرت بھی ان کے اندر پیدا کی۔اس پر بس نہیں کی بلکہ اپنی بچیوں کو گھر کا سلیقہ بھی خوب سکھایا۔پھر شادی بیاہ کا بوجھ اُن پر ہی تھا ہر بچی کی شادی دین کو دُنیا پر مقدم رکھنے کے اصول پر کی۔ماشاء اللہ اُن کی 281