زندہ درخت — Page 260
زنده درخت 32 میرے دعا کرنے والے ابا جان تحریر: امتہ الحميد ظافر صاحب 邀 میرے پیارے ابا جان کا نام اللہ تعالیٰ نے آپ کی پیدائش سے پہلے ایک خواب میں عبد الغنی رکھا تھا۔آپ واقعی اس نام کے مصداق نکلے اور اللہ تعالیٰ کے احسان سے ساری عمر غناء کا پہلو بہت نمایاں رہا۔کبھی بھی مالی تنگی نہ دیکھی۔آپ نے ہر ہنر اور مال کو دوسروں کی مدد کے لئے کھلے دل سے استعمال کیا۔ان کے غناء کے حوالے سے میرے شوہر محترم عبدالسلام ظافر صاحب نے بتایا کہ ایک دفعه مکرم مستری اللہ دتہ صاحب درویش قادیان آئے ہوئے تھے ان سے اوکاڑہ میں ملاقات ہوئی۔ان سے ابا جان کی خیریت کے بارے میں پوچھا تو بے ساختہ کہا آپ بھائی عبدالرحیم صاحب دیانت کے بارے میں کبھی بھی فکر مند نہ ہوا کریں۔ماشاء اللہ خوش وخرم چاق و چوبند ہر کام کے لئے تیار اور کمر بستہ رہتے ہیں۔ہرفن مولا ہیں۔مخلوق خدا کا بہت بھلا چاہتے تھے۔کئی لوگوں کو قادیان لا کر کچھ عرصہ اپنے پاس رکھتے اور چھوٹا موٹا ہنر سکھا کر کچھ سامان دے کر جگہ وغیرہ کا انتظام بھی کر دیتے تا کہ وہ اپنا کاروبار شروع کر کے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں۔ان دنوں کے جامعہ احمدیہ کے طلباء آج ابا جان مرحوم کا ذکر بہت اچھے رنگ میں کرتے ہیں اور یاد بھی کرتے ہیں کہ آپ فلاں وقت میں کام آئے تھے۔کئی بچیوں کی شادیاں رشتے طے کرنے کے بعد اپنے خرچ پر کروائیں۔کئی نادار مریضوں کے علاج معالجہ میں بھی مددفرماتے تھے۔غرباء یتامی و مساکین کی دلجوئی اور خبر گیری بھی کرتے تھے۔دار الشیوخ میں مقیم طلبہ کی فرمائش پر ان کی من پسند کے کھانے گاہے گاہے پکوا کر بھجوایا کرتے تھے۔260