زندہ درخت — Page 259
زنده درخت ایک اور بات یاد آ رہی ہے جور بوہ کے ایک بزرگ نے کئی دفعہ سنائی کہ ایک دفعہ بھائی جی اپنے ایک بچے کو ہمراہ لے کر میری دکان پر آئے اور اسے ایک جو تا خرید کر دیا۔میں نے ان سے کہا کہ بھائی جی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت کچھ دے رکھا ہے مگر آپ نے یہ ستا جوتا خرید کیا ہے۔کہنے لگے کہ یہ ٹھیک ہے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے مگر میں نے اس بچے کی زندگی وقف کی ہے اسے سادگی کی عادت ہونی چاہیے۔ان کی نیک نیت کی برکت سے اس بیٹے کو کئی ممالک میں خدمت دین کی توفیق ملی۔زمانہ درویشی میں آپ کی اہلیہ پانچ بچیاں اور تین بیٹے ( تیسرا بیٹا تقسیم ملک کے بعد پاکستان میں پیدا ہوا۔درویش نے اس بچے کو درویشی کا انعام سمجھا اور ہمیشہ اس کے ساتھ انعام لکھتے اور اسی نام سے پکارتے ) تو یہ نو افراد تھے۔باقاعدہ ذریعہ آمدن نہ ہونے کے برابر تھا۔آپ کی بیوی کےایک بہت پرانے خط کے مطابق ایک وقت ان نو افراد کی با قاعدہ آمدنی وہ پندرہ روپے ماہوار تھی جو ان کے ایک لڑکے کو جماعت کی طرف سے ملتے تھے۔اس ضمن میں بے شمار واقعات بیان ہو سکتے ہیں لیکن خدائے ستار نے جس طرح اپنے فضلِ بے پایاں سے نوازا اور عزت و وقار عطا فرمایا اس کے پیش نظر ان واقعات کی تفصیل مناسب معلوم نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب بچے معاشرہ میں وقار کی نظروں سے دیکھے گئے۔بچوں کی شادیاں اپنے وقت پر بڑی سادگی مگر پر وقار طریق پر ہوتی گئیں اور خدا تعالیٰ نے بیٹیوں کو بھی ہر نعمت و برکت سے نوازا۔259