زندہ درخت — Page 207
زنده درخت ہو گیا ( مجھے یہ گمان نہ تھا کہ یہ بزرگ اتنی جلدی ساتھ چھوڑ جائیں گے ورنہ میں زیادہ فائدہ اُٹھا لیتا ) پھر سونے پر سہاگا یہ ہوا کہ مفتی فضل الرحمان صاحب شاگر د حضرت خلیفہ اسیح الاول ہمارے پڑوسی تھے۔اس علم سے دلچسپی کچھ اس پڑوسی سے ہوئی پھر یہ ہوا کہ ان کی وفات کے بعد ان کی اہلیہ محترمہ نے طب کی سب کتابیں میرے ہاتھ فروخت کر دیں۔ان کے مطالعہ سے علم میں اضافہ ہوا۔تقسیم ملک کے بعد یہ علم بھی بفضل خدا روزی کا سامان بنا بہت لوگوں کا علاج کیا بعض لا علاج مریض بھی شفا یاب ہوئے عام طور پر کہا جاتا بھائی جی کے ہاتھ میں شفاء ہے۔ایک ڈیڑھ دو سال کی بچی گرم پانی کی دیکھی او پر گر نے سے جھلس گئی۔اُس کی حالت کافی خراب ہو گئی بہت علاج معالجے سے شفاء نہ ہوئی بالآخر وہ میرے پاس لے کر آئے میں نے اللہ کا نام لے کر مرہم بنا کر دی کچھ دن لگے بچی اللہ کے فضل سے صحت یاب ہو گئی۔اُس کے والدین بچی کو نہلا کر اچھے اچھے کپڑے پہنا کر میرے پاس لائے کہ یہ آپ کی بچی ہے ہم آپ کا احسان عمر بھر نہ بھولیں گے۔میرا کیا تھا شافی تو خدا تعالیٰ ہے میں کسی کی تکلیف سن کر نسخہ بتا دیتا ہوں مجھے ثواب مل جاتا ہے۔پھر ایسے ٹوٹکے بھی جن سے فائدہ کا تجربہ ہو جاتا ہے بتا دیتا ہوں۔بہت مثالیں ہیں اللہ شافی نے عجیب طریقے شفا کے رکھے ہیں۔یرا اور اسنگھ کا واقعہ اور طوطا چشمی ایک شخص ہیرا سنگھ صاحب نے جو مکرم حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی کے مکان میں 1947ء سے رہ رہا تھا میرے ساتھ اچھے مراسم پیدا کر لئے دوستی کی شکل ہو گئی آتے جاتے تپاک سے سلام کرتا۔ایک دن وہ اور اُس کی بہو افسردہ خاطر کہیں جارہے تھے میں نے حال احوال پوچھا۔بہو تو رونے لگ گئی۔ہیراسنگھ صاحب نے بتایا کہ اس کی ٹانگ میں شدید درد رہتا ہے۔رات بھر نہ خود سوتی ہے نہ سونے دیتی ہے ہسپتال لے جا رہا ہوں۔ہمارے ہسپتال کی اچھی شہرت ہے۔خدا تعالیٰ نے ڈاکٹروں کے ہاتھ میں شفاء رکھی ہے اور 207