زندہ درخت — Page 205
زنده درخت ملواتے جن کے گھروں میں آپ کے لئے خاندانی بزرگ جیسے جذبات محبت ہوتے۔بعض ہندو سکھ خواتین جن سے ہمارے لئے کپڑے خریدے یا سلوائے ہوتے ہم سے واقف ہوتیں۔راستوں میں چلتے ہوئے قدم قدم پر واقف کار ملتے۔تحفے تحائف کا سلسلہ بھی اپنوں کی طرح چلتا۔خاص طور پر جب کسی درویش کی گھر والی، سالن بناتی تو بچے کے ہاتھ چند درویشوں کو بھجواتی۔قادیان میں موجود بچوں نے ہماری نسبت ابا جان کا زیادہ قرب پایا۔ابا جان کے خطوط میں اکثر اپنے دوستوں کا ذکر بھی ہوتا تھا۔شیر ولی صاحب کے متعلق فرماتے ہیں: شیر ولی صاحب: شیر ولی صاحب کا ذکر خیر کئی حوالے سے باعث مسرت ہے۔درویشی کے ابتدائی زمانے کے ساتھی تھے۔ہم بہت ذوق و شوق سے کام کیا کرتے تھے۔شیر ولی صاحب انچارج ہوتے تھے ایک وقت ایسا آیا کہ وہ قادیان سے چلے گئے اور فرقان فورس میں چلے گئے۔وہاں میرا بیٹا عزیز عبدالباسط بھی وقف کر کے گیا۔ایک دن کوئی معزز مہمان شیر ولی صاحب کے پاس آنے والے تھے کھانا اہتمام سے پک رہا تھا۔باسط نے اس دعوت کو پر تکلف بنانے کے لئے دو قسم کی مٹھائی تیار کر دی وہ دراصل مجھے کام کرتے ہوئے دیکھا کرتا تھا۔جب مہمان کھانے پر بیٹھے تو کیپٹن صاحب نے باورچی سے پوچھا یہ مٹھائی تم نے بنائی ہے؟ اُس نے کہا ایک سپاہی نے بنائی ہے۔کیپٹن صاحب نے کہا جب کل سب فال ان ہوں تو مجھے اُس سے ملوانا۔اگلے دن جب سب سپاہی قطار در قطار کھڑے ہوئے تو اُس نے بتایا کہ یہ لڑکا ہے جس نے مٹھائی بنائی۔اُس نے قطار سے باہر بلوا کر پوچھا بیٹے تمہارا نام کیا ہے؟ عبد الباسط کس کے بیٹے ہو؟ عبدالرحیم صاحب کا بیٹا ہوں ربوہ سے آیا ہوں 205