زندہ درخت

by Other Authors

Page 137 of 368

زندہ درخت — Page 137

زنده درخت برابر کی شریک تھی۔وہ بھی اس کام میں راحت محسوس کرتی۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ شوق دیا تھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے شیدائیوں کی دعوت کر کے خوشی اور سکون محسوس کرتے۔میں جلسہ سالانہ پر کشمیر اور پونچھ سے آنے والے مہمانوں کو گھر پر مدعو کرتا۔اسی طرح کبھی حفاظ قرآن کو بلا لیتا بھی کسی طرح سے معذور افراد کی دعوت کر دیتا۔خاص طور پر نئے احمدی ہونے والے جب قادیان آتے تو کھانے پر بلا کر حالات بیعت سنتا بیوی بچے بھی اس ضیافت میں ہر طرح حصہ لیتے۔گھر میں سارا دن تیاری ہوتی برتن دھونا کھانا پکانا صفائی کرنا بہت کام ہوتا۔دعوت کے بعد میری اہلیہ نے کئی بار کہا کہ لطیف کے ابا ! جب دعوت کا کام سر پر ہوتا ہے تو لگتا ہے پہاڑ ہے کام کا جو کرنا ہے مگر کام کے بعد جسم تو تھکن سے چور چور ہوتا ہے مگر دل میں خوشی ہوتی ہے کمر ہلکی ہو جاتی ہے کہ ایک نیک بندہ خدا کی خدمت کی توفیق ملی۔میری یہ عادت بھی تھی کہ دس مہمان کہہ کر جاتا اور پندرہ لے کر آجاتا میری اہلیہ محترمہ کو بھی یہ پتہ تھا وہ گھلا کھانا بناتی۔اور میرے اس شوق کو مجھ سے دو ہاتھ آگے بڑھ کر پورا کرتی۔پھر حالات میں بہت کچھ تبدیلیاں آئیں۔وہ کشائش نہ رہی پھر بھی عادت کہاں بدلتی ہے 1970 ء کی بات ہے میں ربوہ میں تھا جلسہ سالانہ کی رات کی شفٹ میں کئی ملکوں کے گورے کالے فدائین احمدیت صداقتِ حضرت مسیح موعود پر تقریریں کر رہے تھے میرے خوشی کے آنسو جاری تھے میں نے اُن کو گھر پر دعوت پر بلا لیا میری بیوی نے بے ساختہ کہا۔لطیف کے ابا! گردشِ ایام نے آپ کے سارے کس بل نکال دئے مگر دعوتوں کا چسکا نہ گیا۔جہاں موقع دیکھا چنگاری سلگی۔خدا کا شکر ہے کہ اب ان کی شریک حال میری بہو محمودہ نے اُن کا رنگ اپنے اوپر چڑھالیا ہے۔کار خیر کا موقع : ایک دفعہ اپنی دکان واقع احمد یہ چوک میں کام ختم کر چکا تھا دس بج گئے تھے۔دکان بند کر رہا تھا۔کہ ایک کار آکر رکی دو آدمی اُترے ڈرائیور کا رہی میں بیٹھا رہا انہوں نے سوڈا 137