زندہ درخت — Page 12
زنده درخت عرض حال سب تعریف رب العالمین رحمن و رحیم کے لئے ہے جس نے حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے ذریعے دینِ حق کی نشاۃ ثانیہ کا انتظام فرمایا۔اس بہار ٹو میں جن درختوں میں اتنی زندگی تھی کہ وہ روحانی پانی کوقبول کر سکیں وہ آپ کی برکات و فیوض سے پھر ہرے ہو گئے۔اُن کو قادر و توانا خدا نے اس قدر پھل عطا فر مایا کہ وہ میوں سے لد گئے۔پھلوں اور میووں سے لدا ہوا ایک خاکسار کے دادا جان حضرت میاں فضل محمد صاحب ہر سیاں والے تھے جنہیں خاص طور پر برکت کا نشان دیا گیا۔آپ کے حالات جمع کرتے ہوئے حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گرامی پیش نظر تھا:۔”اپنے بزرگوں کی نیکیوں کو یاد رکھنا اور ان کے احسانات کو یادرکھ کے ان کے لئے دعائیں کرنا یہ ایک ایسا خلق ہے کہ اس خُلق کو ہمیں صرف اجتماعی طور پر نہیں بلکہ ہر گھر میں رائج کرنا چاہیے۔۔۔اس لئے ہر خاندان کو اپنے بزرگوں کی تاریخ اکٹھا کرنے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور اس تاریخ کو ان کی بڑائی کے شائع کرنے کی خاطر نہیں بلکہ اپنے آپ کو بڑائی عطا کرنے کے لئے ،ان کی مثالوں کو زندہ کرنے کے لئے ان کے واقعات کو محفوظ کریں اور پھر اپنی نسلوں کو بتایا کریں کہ وہ لوگ جو تمہارے آباء واجداد تھے کن حالات میں کس طرح وہ لوگ خدمت دین کیا کرتے تھے کس طرح وہ چلا کرتے تھے کس طرح بیٹھا کرتے تھے اوڑھنا بچھونا کیا تھا، ان کے انداز کیا تھے۔( خطبہ جمعہ 17 مارچ 1989ء مطبوعہ الفضل ربوہ 6 جولائی 2002 ، صفحہ 3) وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قیمتی یادیں سینے میں لئے بزرگ رخصت ہوتے جارہے 12