زندہ درخت

by Other Authors

Page 127 of 368

زندہ درخت — Page 127

زنده درخت چلیں آپ کو رام لیلا دکھا لائیں۔میں نے انکار کیا کہ اب اصل قصہ تو پیش نہیں کرتے لغو کہانی دیکھنے سے کیا فائدہ مگر اُنہوں نے بہت اصرار کیا۔اور کہا کہ آپ وہاں اس سے زیادہ ذکر الہی کر لیں گے جتنا آپ نے یہاں کرنا ہے میں اُن دونوں کے ہمراہ گیا جلدی سے مجلس میں بیٹھ گیا تا کہ کوئی مجھے وہاں دیکھ نہ لے۔میں نے دیکھا کہ لوگ عجیب عجیب مذاق کے وہاں جمع تھے حیران ہوا کہ دیکھنے تو ایک خدا کے بزرگ مقرب کی زندگی اور پاکیزہ سیرت آئے ہیں مگر او باش صورت لوگ ہیں۔اچھے اچھے امیر وضع سفید ریش لوگ ارد گرد کے مکانوں کی چھتوں سے عورتوں کو تاڑ رہے ہیں۔مخش گانے گا ر ہے ہیں۔میری تو آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور دل ایسا دکھا کہ روتے روتے ہچکی بندھ گئی۔ارد گرد کے لوگ مجھے قدرے حیرانی سے گھور گھور کر دیکھنے لگے۔تماشا شروع ہوا۔رام چندر جی جب بن باس میں ہیں تو ایک ندی پار کرنے کے لئے کشتی میں بیٹھتے ہیں اور اجرت میں ملاح کو اپنی پیاری بیوی کی بے حد قیمتی انگوٹھی اُتار کر دیتے ہیں میں حیران ہوا کہ ایک تو بادشاہ ہے بادشاہ کا بیٹا ہے دوسرے قوم کا رشی بھی ہے مگر پاس پیسہ دھیلہ نہیں ورنہ بیوی کی انگوٹھی اُتروا کر نہ دیتا۔جس بات نے بہت متاثر کیا وہ ملاح کی ذہانت اور نیک نفسی تھی۔اُس نے انگوٹھی جیسی قیمتی چیز نہ لی اور کہا میں اجرت نہیں لوں گا ہاں آج ایک ندی میں نے آپ کو پار کروائی ہے جس دن مجھے ایک ندی پار کرنے کے لئے آپ کی ضرورت ہوگی تو آپ میری مدد کیجئے۔میری تو چیچنیں نکل گئیں۔لوگوں نے میری طرف دیکھنا شروع کر دیا۔بعد میں بہت عرصے تک میری طبیعت پر اس کا اثر رہا۔پھر جب بھنڈاری صاحب سے ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا بھنڈاری جی! آپ نے کیا دیکھا جواب دیا کھیل تماشا، روپ بہروپ، رنگ روپ پھر میں نے اُس کو اصل حقیقت سمجھائی کہ کس طرح کسمپرسی کے زمانے میں رام چندر جی صابر شاکر رہے۔دوسرا اصلاح کی زیر کی دنیاوی دولت ترک کر کے اصلاح احوال اور اُخروی زندگی کا فکر کیا۔میرے بیان میں ایسا درد اور اثر تھا کہ بھنڈاری صاحب بھی رونے لگے۔127