زندہ درخت

by Other Authors

Page 126 of 368

زندہ درخت — Page 126

زنده درخت میں ایک عرب آیا۔وہ شخص عرب نہ تھا بلکہ لباس عربوں جیسا پہنتا تھا۔سارا محلہ اُس کا مرید تھا وہ ہر سال آتا لوگوں سے نذر نیاز وصول کرتا۔جب اُسے ہمارے بارے میں علم ہوا تو اُن کے سامنے ڈینگیں مارنے لگا کہ یہ لوگ تو جاہل ہیں۔جھوٹے ہیں۔تنخواہ لیتے ہیں اس کام کی وغیرہ وغیرہ۔ایک شخص نے جو ہمارے پاس آیا تھا یہ سارا قصہ سنایا میں نے اُسے کہا کہ شام کو آپ اُس کے پاس آکر بیٹھنا میں بھی آؤں گا مگر اُسے علم نہ ہو کہ مجھے آپ وہاں لے کر آئے ہیں۔وہاں سارا محلہ ہمارا واقف تھا ہم اگر چہ ایک ماہ تبلیغ کے لئے وقف کرتے تھے مگر کئی سال آنے جانے سے بہت لوگ شنا سا ہو گئے تھے شام ہوئی تو میں اُن کے گھر گیا اور کہا ئنا ہے پیر صاحب آئے ہوئے ہیں ہم بھی نیاز حاصل کرنے آئے ہیں۔پیر صاحب نے ہمیں جگہ دی اور تپاک سے ملے۔اب گفتگو شروع ہوئی ہم نے عرب سے علمی افاضہ کے لئے چند باتیں کیں تو وہ گھبرائے اُن کو علم سے کیا واسطہ تھا وہ تو کاہلواں کے قریب کے گاؤں کوٹلی راول کے راول تھے اور مانگنے والے تھے۔پندرہ بیس منٹ کی گفتگو سے اس قدر برافروختہ ہوئے کہ اُن کے میزبان بھی گھبرا گئے کچھ پیر صاحب کی حالت سے حیران ہو کر وہ مجھے چلے جانے کو کہنے لگے میں نے کہا پیر صاحب آپ تو عرب ہیں عربوں کے حوصلے بہت بلند ہوتے ہیں مگر اب تو عربی پیر کی قلعی کھل چکی تھی۔میں نے جاتے جاتے اُسے کہا کہ تم نے یہ کیا منافقانہ صورت بنا رکھی ہے۔دھوکہ دہی سے رزق کماتے ہو صبح ہوئی تو پیر صاحب غائب تھے۔میرے ساتھی نے بڑا لطف لیا اس کے بعد ہم جب بھی گئے پیر صاحب کو کبھی نہیں دیکھا۔xili- ویر ووال میں دعوت الی اللہ کے دوران رام لیلا دیکھنے کا واقعہ: ویر و وال کے لئے ایک ماہ وقف میں ہمارے امیر المجاہدین مکرم خان عبدالمجید خان صاحب تھے ( والد محترم آپا طاہرہ صدیقہ ناصر صاحبہ ) ان کے چھوٹے بھائی مکرم حفیظ خان صاحب کی لالہ سرن داس بھنڈاری سے دوستی تھی۔ایک دن وہ آئے اور کہنے لگے بھائی جی! 126