زندہ درخت

by Other Authors

Page 124 of 368

زندہ درخت — Page 124

زنده درخت ہمیں واپسی کی فکر ہوئی کیونکہ ہمیں حکم تھا کہ رات واپس آجائیں۔واپسی پر راستے میں بھی مزے کا واقعہ ہوا۔جب بہت پیاس لگی کوئی کنواں نہ ملا سوچا کسی کے گھر سے پانی لے لیتے ہیں۔مگر یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی ہر گھر پر تالا پڑا ہوا تھا۔صرف ایک گھر کھلا تھا جس میں ایک نو بیاہتا خاتون عروسی جوڑا پہنے بیٹھی تھی۔اُس نے پانی پلایا اور بتایا کہ سب گاؤں والے کھیتوں پر کام کرنے گئے ہیں۔ہم نے پانی پیا اور دو کوس ، چل کر واپس پہنچے۔-X - ایک مزیدار بات : فتنہ ارتداد کے زمانے میں عارضی وقف کی تحریک پر آٹھ آدمیوں پر مشتمل قافلہ بیاور گیا ، جوا جمیر شریف سے آگے ہے۔ہمارے انچارج محمد حسین صاحب تھے رات گاڑی سے اُترے تو زمین عجیب خوبصورت منظر پیش کر رہی تھی۔جیسے ستاروں کا قافلہ زمین پر اُتر آیا ہو پتہ چلا کہ وہ ابرک کے ٹکڑے تھے جو چاندنی میں چمک رہے تھے وہاں ابرک کی دکان تھی۔صبح سودا وغیرہ لینے بازار گیا تو دیکھا کہ بازار میں ایک شخص کو چند آدمیوں نے گھیر رکھا ہے۔وہ اعتراض کر رہے ہیں اور اکیلا شخص جواب دے رہا ہے میں قریب گیا تو معلوم ہوا کہ وفات وحیات مسیح ناصری پر بات ہورہی ہے میں نے سوچا یا الہی یہ تنہا شخص احمدی معلوم ہوتا ہے مگر یہاں احمدی کیسے؟ تھا بھی نا آشنا صورت۔۔۔۔۔۔۔دیکھتے ہی دیکھتے معترض لوگ اُسے دھکے دینے لگے۔میری غیرت نے خاموش نہ رہنے دیا آگے بڑھ کر کہا۔اس کی باتوں کا جواب دودھکے کیوں دیتے ہو جو یہ کہہ رہا ہے بالکل حقیقت ہے لوگ یہ دیکھ کر کہ اُس کا ایک حمایتی آگیا ہے ادھر اُدھر ہو گئے۔وہ احمدی شخص جناب عبدالواحد پٹھان خادم حضرت اقدس مصلح موعود سے مشابہ تھا مجھے اپنا ہم نوا دیکھ کر پوچھا آپ کہاں سے آئے ہیں میں نے کہا قادیان سے دوبارہ علیک سلیک کی معانقہ کیا گر مجوشی کا یہ عالم تھا گو یا لیلی مجنوں ملے ہوں مکرم ماسٹر محمد شفیع اسلم صاحب نے کیا خوب کہا ہے۔ع مجنوں کو لیلی مل گئی جب احمدی دو مل گئے 124