زندہ درخت

by Other Authors

Page 123 of 368

زندہ درخت — Page 123

زنده درخت گے وہ ہمیں قرآن کریم سے نکال کر دکھا دیں۔یہ تو ہو نہیں سکتا کہ آ کر فوت ہوں اور دوسرے لوگ زندگی کی آیات ہی پیش کرتے رہیں۔اس بات کا اُس پر عجیب اثر ہوا کچھ دیوانہ سا ہو گیا۔مجھے موڑھے سمیت بازار میں پھینک دیا۔فحش گالیاں بکیں۔لاجواب ہونے کے اقرار کا عجیب انداز تھا۔خدا کی شان سُننے والوں میں کچھ سکھ یاتری بھی تھے، اُس کی خفت ، ماردھاڑ اور دھکم دھکے دیکھ کر بولے: میاں جی آپ کہاں سے آئے ہیں۔آپ کا کمال حوصلہ ہے وہ گالیاں دے رہا ہے اور آپ ٹھنڈے دل سے اُسے سمجھاتے جا رہے ہیں۔ایک سکھ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور ہم چل پڑے۔اگر چہ اُس کی گالیاں سُن کر طبیعت منقض ہو رہی تھی تا ہم جو سکھ احباب ہاتھ لگے انہیں خوب دعوت الی اللہ کی اور بتایا کہ مزاج میں یہ نرمی ہمارے مسیحا کی تعلیم ہے۔ع گالیاں سُن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو ix- یہی کوئی دوکوس : کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار دعوت الی اللہ کے دوران کا ایک اور دلچسپ واقعہ ہے۔ہم دو آدمی بھائی شیر محمد صاحب برادر اصغر بھائی نورالدین صاحب تاجر قادیان اور خاکسار دعوت الی اللہ کے لئے نکلے۔کھانے کے لئے روٹی پکالی ، پانی کی گڑوی لے کر چل دئے۔راستے میں کسی سے پوچھا کہ سورج پور یہاں سے کتنی دور ہے جواب ملا بس یہی کوئی دوکوس ہے۔چلتے چلتے بارہ بجنے لگے۔تو پھر کسی سے پوچھا بھائی سورج پور یہاں سے کتنی دور ہے جواب ملا بس یہی کوئی دو کوس ہو گا۔ہم نے کہا یہ کوس کتنا لمبا ہوتا ہے۔جواب ملا پتہ درخت سے توڑ کر چلنے لگیں جب پتہ خشک ہو جائے تو سمجھو ایک کوس ہو گیا۔سادے زمانے تھے عجیب انداز تھے ہم چلتے چلتے عصر کے وقت منزل پر پہنچے۔بھائی جی کا پتہ پوچھا جو ایک ضعیف مسلمان عورت کے گھر رہائش پذیر تھے۔کھیت میں ملاقات ہوئی، چنے اور گڑ سے ہماری تواضع کی۔اب 123