زندہ درخت

by Other Authors

Page 101 of 368

زندہ درخت — Page 101

زنده درخت اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میری بیوی سکینت وراحت کا بے مثل نمونہ ہے۔اس کی دینداری کے ان گنت واقعات میں سے ایک تحریر کرتا ہوں۔باسط چھوٹا تھا۔آموں کا موسم تھا۔پٹھان کوٹ کے اچھے آم سرکنڈوں کی چوکور ٹوکریوں میں پکا کرتے تھے اُسے کھاری کہتے تھے سستے زمانے تھے ایک کھاری سے بیس سے پینتیس سیر تک آم نکلتے تھے قیمت صرف دو اڑھائی روپے ہوتی۔کھاری منڈی والوں کو واپس کر دیتے۔ایک دفعہ کھاری خرید کر لایا تو آم بہت مزے دار تھے۔باسط چھوٹا تھا۔کھاری پر بیٹھ گیا اور آم کھانے لگا۔اچھے لگے تو کچھ زیادہ ہی کھا گیا۔پیٹ خراب ہو گیا، پیچش لگ گئی۔بے حد تکلیف تھی۔اُس کے لمبا کر کے ہائے اللہ کہنے سے دل دہل جاتا۔بہت علاج ہوا مگر فائدہ نہ ہو رہا تھا اُدھر میرے وقف برائے دعوت الی اللہ کے دن قریب آرہے تھے۔میں نے ایک ماہ وقف کیا ہوا تھا اور مکیریاں جانا تھا۔بچہ بہت بیمار تھا اس لئے میرے جانے میں تاخیر ہونے لگی۔ایک دن اس کی والدہ نے بڑے صبر اور توکل سے کام لیتے ہوئے کہا: لطیف کے ابا جب تک آپ گھر سے باہر نہ جائیں گے بچہ تندرست نہ ہوگا۔آپ نے خدا کے راستے پر جانا ہے اس کو خدا کے حوالے کر دیں انشاء اللہ بچے کو اللہ تعالیٰ صحت دے گا۔یہ بات دل پر تیر کی طرح لگی رات کا وقت تھا تیز بارش تھی۔دھوبی سے کپڑے لینے تھے گھر پتا معلوم نہ تھا۔نکل تو کھڑا ہوا مگر کوئی آدم نہ آدم زاد۔دعائیں پڑھتا ہوا چلا جارہا تھا۔جب کہیں کوئی صورت نظر نہ آئی تو ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا کہ پوچھ ہی لوں دھوبی کہاں رہتا ہے۔اندر سے آواز آئی۔اندر آجائیں۔میں بارش میں بھیگا ہوالت پت کھڑا تھا اندر کیسے جاتا ذرا تاخیر ہوئی تو گھر کے مالک نے دروازے پر آ کر پوچھا اندر کیوں نہیں آ جاتے۔۔۔میں نے کہا کہ بھائی مجھے دین محمد دھوبی کے گھر جانا ہے اُس نے کہا بھائی جی اندرآ جائیں یہی دین محمد دھوبی کا گھر ہے۔اللہ تعالیٰ کا شکر کیا اندر کپڑے دھونے والی بھٹی چل رہی تھی گھر گرم تھا۔اس نے میرے سامنے کپڑے تیار کر دیئے بارش رک گئی تھی مگر گھٹنے گھٹنے پانی لہریں لے رہا تھا میں اسی طرح واپس گھر جانے کے لئے نکلا ایک جان پہچان والا 101