زندہ درخت — Page 78
زنده درخت ثابت ہوتے۔اگر کبھی کوئی غلط فہمی پیدا ہوتی تو فوراً اس کی اصلاح ہو جاتی تھی۔ایک جفاکش اور نڈر خادم سلسلہ تھے۔آپ کی خاص خاص تقریریں بہت گہرے معارف اور عشق نبی پر مشتمل ہوتی تھیں اور بہت پسند کی جاتی تھیں۔“ -3- محترم میاں عبدالرحیم صاحب دیانت درویش قادیان اب دوم میں ملاحظ حظہ کیجئے ) -4- محترم مولوی صالح محمد صاحب مربی سلسلہ بزرگ والدین کی مبشر خوابوں کے مطابق 12 فروری 1906ء کو ایک بیٹا پیدا ہوا حسب معمول حضرت مسیح موعود سے نام رکھنے کی درخواست کی گئی۔تو آپ نے فرمایا بچے کا نام غلام محمد رکھ لیں۔عرض کیا گیا یہ تو اس کے تایا کا نام ہے تو آپ نے صالح محمد نام عطا فرمایا۔خدا تعالیٰ کی قدرت کہ یہ وہی نام تھا جو آپ کی والدہ صاحبہ نے خواب میں دیکھا تھا۔حضرت اقدس سے اس خواب کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔آپ بہت متقی، پرہیز گار اور عبادت گزار تھے۔خدا تعالیٰ کے احکامات کی انتہا تک بجا آوری کرتے اور ایسا ہی سب سے چاہتے۔سچی اور کھری بات کہنے کے عادی تھے۔جامعہ میں تعلیم پائی حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے ہم جماعت تھے۔آپ کی اہلیہ کا نام فاطمہ بیگم صاحبہ بنت محترم غلام رسول صاحب ٹھیکیدار تھا آپ مع فیملی 12 سال 1933 تا 1945 ء امراؤ تی C۔P برار میں رہے۔جہاں آپ کی اہلیہ سکول ٹیچر تھیں یہ شہر قادیان سے بہت دور تھا۔احمدیت کی مخالفت بھی تھی آپ ہمیشہ اپنے نام کے ساتھ احمدی لکھتے اس لئے بھی بدخواہوں کی نظروں میں آ جاتے۔1945ء میں ایک افسوسناک حادثہ کا سامنا کرنا پڑا۔چھوٹی بچی جس کی عمر 5 سال کی تھی مختصر علالت کے بعد 78