زندہ درخت — Page 70
زنده درخت زبانی دہراتی رہتیں۔اس طرح بہت سی سورتیں یاد کر لی تھیں۔ایک دفعہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے فرمایا کہ ہر عورت قرآن مجید پڑھنا جانتی ہو۔جو نہیں جانتی وہ قاعدہ پڑھے۔جن کو آتا ہے آگے دس دس عورتوں کو پڑھائیں۔میری اماں میرے حصے میں آئی تھیں۔بڑے شوق سے قاعدہ پڑھتیں مگر مکمل نہ کر سکیں زندگی مکمل ہو گئی تھی۔اماں ہمیں ہمیشہ بڑی اماں سے جو بہن بھائی تھے اُن سے عزت، ادب اور پیار سے پیش آنے کی تاکید کرتیں۔آپ کے مزاج میں جو پیار محبت تھا اُس نے گھر میں پیار محبت کی فضا بنائی ہوئی تھی۔آپ کو اس فضا کی مثال دیتی ہوں میرے بھائی محترم عبدالرحیم صاحب دیانت درویش ( اللہ تعالیٰ اُن کو اُونچی جنت نصیب کرے) پہلے ہمارے ساتھ ہی دار الفضل والے مکان میں رہتے تھے جب الگ دکان شروع کی تو روز آنا جانا مشکل لگتا آپ نے والدین کے مشورے اور اجازت سے دارالفتوح میں اپنا مکان بنایا اور اُس میں منتقل ہو گئے۔مگر روزانہ ہم سے ملنے آتے شاذ ہی کبھی ناغہ ہوتا۔اماں اُن کے آنے سے بہت خوش ہوتیں۔ہماری بھابی آمنہ بیگم ، اللہ بخشے، بہت نیک مزاج، ملنسار اور سب کا دل خوش کرنے والی بھائی تھیں۔ایک دن اماں اُن کے گھر گئیں تو بھابی سے پوچھا عبدالرحیم صبح اُٹھ کر نماز پڑھتا ہے؟ بھابی نے کہا نہیں تو اماں نے کہا پہلے آواز دے کر جگانا پھر منہ پر پانی کا ہلکا چھینٹا دے کر جگانا۔تاکہ صبح کی نماز قضا نہ ہو۔بھائی جوانی میں بہت غصے والے تھے جب بھابی نے جگانے کے لئے پانی کا چھینٹا مارا تو گرم ہو گئے۔آمنہ یہ کیا؟ بھابی نے کہا آپ کی اماں نے کہا تھا۔ایک دم خاموش ہو گئے اور اماں کے احترام کی وجہ سے کچھ نہ کہا۔مگر صبح کی نماز کے لئے اُٹھنے لگے۔اماں جب بھی ان کے گھر جاتیں محبت سے بچھے جاتے ، بچے بھی آکر لپٹ جاتے ہمارے لئے وہ دن بہت خوشی کا ہوتا جب عید الفطر سے ایک دن پہلے بھائی بھائی بچوں کے ساتھ ہمارے گھر آتے اور سویاں بنتیں اُس زمانے میں بازار سے سویاں لینے کا رواج نہ تھا گھروں میں مشینوں پر بنائی جاتیں۔بھائی پہلے بتا جاتے کہ ہم فلاں دن آئیں گے۔پھر سارا دن کوئی میدہ گوندھتا کوئی مشین چلاتا کوئی 70