زندہ درخت — Page 245
زنده درخت سرسبز ہو گیا۔لمبے لمبے بہت شہتوت لگے چڑیوں بلبلوں نے اپنا حصہ خود لے لیا۔باقی تقریباً سب درویشوں کو دیتا رہا۔شہتوت بے حد مفید ہوتا ہے اس کا شربت کئی بیماریوں کی دوا ہے۔اُس درخت کا ذکر ابا جان کے خطوط میں بڑی کثرت سے ہوتا رہا۔پہلے کسی کے ہاتھ اور پھر خود ربوہ آتے ہوئے بڑے اہتمام سے اس کی قلمیں لے کر آتے تا کہ اس درخت کے بچے یہاں بھی پھل دیتے رہیں۔قلمیں بھجواتے وقت بڑی تفصیل اور تاکید سے پوری احتیاط سے ان کو مٹی میں دبانے اور ان کی نگہداشت کرنے کی تلقین بھی فرماتے رہے۔245