زندہ درخت

by Other Authors

Page 204 of 368

زندہ درخت — Page 204

زنده درخت محروم تھے البتہ کسی قدر بات کر سکتے تھے۔ابا جان انہیں امرتسر اسپتال لے گئے اور کوشش کی کہ ان کا علاج ہو جائے۔تاہم مختلف ٹیسٹوں اور کوششوں کے بعد یہی پتہ چلا کہ ان کا علاج نہیں ہوسکتا۔یہی صاحب قادیان میں کسی مکان کی تعمیر کا کام کر رہے تھے۔اُس مکان کے سلسلہ میں کوئی مقدمہ چل رہا تھا۔دوران تعمیر دوسرے فریق نے پولیس کو بلا کر تعمیر رکوا دی اور کام کرنے والوں کو گرفتار کر لیا ابراہیم صاحب تھانے جاتے ہوئے جب ہمارے مکان کے سامنے سے گزر رہے تو بآواز بلند اپنے طریق پر ابا جان کا نام لے کر اپنا ہتھکڑی والا ہاتھ اونچا کر کے دکھایا یہ ایک طرح کی پکار تھی کہ آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ابا جان فورا تھانے جا کر ان کی رہائی کا بندوبست کر کے اپنے ہمراہ واپس لے کر آئے۔محترم حافظ محمد رمضان صاحب : ان سے بھی گہرے مراسم تھے۔محترم حافظ غلام محی الدین صاحب: آپ بوچھال کلاں ضلع جہلم کے رہنے والے تھے۔وہ بھی دوستوں میں شامل تھے۔آپ کے احباب میں بعض غیر مسلم بھی شامل تھے۔درویشوں کے خاندان کے اکثر افراد پاکستان منتقل ہو گئے تو درویشوں نے آپس میں ایک خاندان کی طرح رہنے کا طریق اپنا کر دلوں کی تسلی کا کچھ سامان کر لیا۔سب کے بچے سانجھے ہو گئے۔ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہو کر خاندان کی کمی کو پورا کیا۔اسی طرح مل بانٹ کر غم بھی ہلکے کرتے۔پاکستان سے کسی کے بچے کی کامیابی کی خبر یا شادی بیاہ کی خوشخبری میں سب ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے۔ابا جان کی ڈیوٹی بورڈ پر جماعتی اطلاعات تحریر کرنے کی تھی۔نئی خبریں بورڈ پر خوش خط لکھ دیتے سب کے علم میں ہوتا کہ کس کے گھر والے کس حال میں ہیں؟ اس نئے انوکھے مؤاخات میں سب ابا جان کو بھائی جی کہتے چھوٹے بڑوں کے بھائی جی صرف احمد یہ محلہ میں ہی نہیں اردگرد کے ہندو سکھوں کے بھی بھائی جی ہو گئے۔عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ کسی قسم کا کام ہو کسی مشورے کی ضرورت ہو بھائی جی کام آئیں گے۔ہم میں سے کوئی قادیان جا تا تو ابا جان ایسے بہت سے لوگوں سے 204