زندہ درخت

by Other Authors

Page 203 of 368

زندہ درخت — Page 203

زنده درخت کے مہتم و منتظم ہوتے تھے جلسہ کے اعلان سے بھی قبل آپ کو اس کے متعلق بتا دیا کرتے تھے۔موٹر ، بس وغیرہ میں سفر کرنے سے آپ کی طبیعت پر اثر ہوتا ابا جان کی بھی، اس ہم مزاجی کی وجہ سے ابا جان کو فرماتے کہ ہم ٹانگے میں جائیں گے اسی تعلق سے آپ ابا جان کو رفیق سفر کے نام سے یاد فرماتے۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب: ابا جان کے کلاس فیلو بلکہ سیٹ فیلو تھے۔دونوں بزرگ اس بات کو ہمیشہ یادر کھتے اور لطف لے کر دہرایا کرتے تھے۔مولوی محمد حفیظ بقا پوری صاحب : ایک جید عالم دین، خاموش طبع بزرگ تھے۔مدرسہ احمدیہ میں مدرس تھے۔اخبار بدر کے لمبا عرصہ ایڈیٹر رہے دیگر اہم جماعتی خدمات کی بھی توفیق پائی۔درویشی کی سعادت ملی۔صبر اور قربانی کا بہترین نمونہ پیش کیا۔ابا جان ان کی صحبت سے اپنی علمی طبیعت و رجحان کی وجہ سے بہت حظ اٹھاتے تھے۔مکرم مولوی صاحب بھی ابا جان کی وسعتِ معلومات کے مداح تھے۔دونوں صبح کی سیر کے دوران حالات حاضرہ پر سیر حاصل گفتگو کرتے۔یہ تعلق ہمیشہ ترقی پذیر رہا۔محترم عبدالمجید حنان صاحب : ان کا تعلق ویرووال افغاناں سے تھا۔پہلے پہل وقف عارضی پر ان کے ہاں جانے سے واقفیت ہوئی۔جو ذاتی دوستی میں بدل گئی قادیان اور پھر ربوہ تک روابط قائم رہے (حسن اتفاق سے خان صاحب کی ایک بیٹی حضرت آپا طاہرہ صدیقہ صاحبہ آپا امتہ اللطیف صاحبہ کی بیٹی عزیزہ نصرت خورشید میڈیکل کالج میں ہم جماعت اور سہیلیاں رہیں )۔ان کے بھائی محترم عبدالحفیظ خان صاحب سے بھی دوستی تھی۔خان صاحب تقسیم کے بعد بھی کثرت سے قادیان کی زیارت کے لئے جاتے رہے اس طرح ان تعلقات میں مزید اضافہ ہوتا رہا۔ابا جان کے حلقہ احباب میں کچھ معذور اور غریب افراد بھی تھے جن کی دلجوئی کرنا آپ اپنا فرض سمجھتے تھے۔قادیان میں ایک معمار ابراہیم صاحب تھے۔وہ قوت سماعت سے 203