زندہ درخت — Page 19
زنده درخت شکست ہوئی تھی۔آپ کو کون سی دلیل مل گئی۔انہوں نے جواباً کہا کہ آپ لوگوں کے چہروں پر ہمیں صداقت نظر آگئی اور اُن مخالفوں کے چہروں سے کذب اور بے ہودہ پن نظر آیا یہی بات ہم کو قادیان کھینچ لائی۔حضرت میاں فضل محمد صاحب خلافت ثانیہ کے عہد میں ہجرت کر کے قادیان آ گئے تھے۔اور محلہ دار الفضل میں رہائش اختیار کر لی تھی۔تقسیم ہند کے بعد آپ پاکستان تشریف لے آئے اور ربوہ میں مقیم ہوئے۔آپ موصی تھے۔اور تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں بھی شامل تھے۔آپ کا جنازہ حضرت مصلح موعود نے پڑھایا اور پھر اگلے روز 9 رنومبر 1956ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ : ”میاں فضل محمد صاحب ہر سیاں والے فوت ہوئے ہیں۔انہوں نے 1895ء میں حضرت مسیح موعود کے ہاتھ پر بیعت کی تھی جس پر اب 61 سال گزر چکے ہیں۔گویا 1895ء کے بعد انہوں نے 61 جلسے دیکھے۔ان کے ایک لڑکے نے بتایا کہ والد صاحب کہا کرتے تھے کہ میں نے جس وقت بیعت کی اس کے قریب زمانہ میں ہی میں نے ایک خواب دیکھا جس میں مجھے اپنی عمر 45 سال بتائی گئی۔میں حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہوا اور رو پڑا اور میں نے کہا حضور بیعت کے بعد تو میرا خیال تھا کہ حضور کے الہاموں اور پیش گوئیوں کے مطابق احمدیت کو جو ترقیات نصیب ہونے والی ہیں انہیں دیکھوں گا۔مگر مجھے تو خواب آئی ہے کہ میری عمر صرف 45 سال ہے۔اس پر حضرت مسیح موعود نے فرما یا گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں اللہ تعالیٰ کے طریق نرالے ہوتے ہیں شاید وہ 45 کو 90 کر دے۔چنانچہ کل جو وہ فوت ہوئے تو ان کی عمر پورے 90 سال کی تھی۔اس طرح احمدیت کو جو ترقیات ملیں وہ بھی انہوں نے دیکھیں اور 61 جلسے بھی دیکھے۔ان کے چار بچے ہیں۔جو دین کی 19