زندہ درخت — Page 177
زنده درخت فرماتی ہیں کیسے بھول سکتا ہوں تادم زیست بھولنے والے نہیں مبارک ہو مبارک ہو مبارک ہو لڑکی کے لئے بھی دعا کی تھی ایک بہت خوشنما بستر دکھائی دیا۔میری لاڈلی اگر تذکرہ آپ کے پاس ہے تو محترمہ اہلیہ چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کی خدمت میں پیش کر دیں۔میں آپ کو اور بھیج دوں گا۔اُستانی جی کی کتب جمع کرادی ہیں سامان باندھ لیا ہے گندم کا کیا کرنا ہے لنگر میں جمع کرا دوں؟ مشین کا خالی ڈبہ ہے مشین نہیں ہے۔ایک سوسات روپے میں ایک چیز بیچی ہے اُن کو ادا کرنے ہیں۔ان کا گھر محفوظ نہیں ہے مگر میں نے جو کچھ ہو سکا کیا ہے حضرت حافظ صاحب مرحوم کی کتابیں خریدی ہیں۔اور بھی خریدی ہیں خود جلد کرتا ہوں۔میں نے سکھوں ہندؤں کی دکان پر قرآن کریم دیکھ کر بورڈ پر اعلان لکھ دیا ہے کہ پورا، ادھورا ، کوئی حصہ قرآن کریم کا کسی کے پاس ہو تو جلایا نہ جائے میرے پاس پہنچا دیں بعض شریف ہندو سکھ بھائیوں نے تعاون کیا۔جو اوراق جمع ہوئے اُن سے قرآن کریم مکمل کر کے جلد کر لئے تقریباً بیس مساجد میں اور ان سے بہت زیادہ لوگوں کو دئے ہیں کم و بیش ایک سو میں نے ٹھیک کرلئے ہیں۔اس طرح علاوہ اپنے فائدہ کے قوم کا بھی فائدہ ہے۔حضرت پیر جی کے قرآن کریم پہلے ٹھیک کئے ہیں۔“ مثالی خدمت کتب خرید کر رتن باغ بھجوانا آسان کام نہیں تھا۔اکا دُکا کتاب تو آنے جانے والوں کے ہاتھ آسکتی تھی۔مگر جب بہت کتب محفوظ مقام پر پہنچانا ضروری ہوا تو بذریعہ ڈاک پارسل بھجوانے لگے جس پر بہت خرچ ہوتا۔پہلی کوشش تو یہی ہوتی کہ اگر مالک کا علم ہو جائے تو کتاب اُس تک پہنچادی جائے بصورت دیگر محفوظ کر لی جائے۔قادیان سے سب ڈاک دفتر خدمت درویشاں میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد کی معرفت موصول ہوتی۔جب پارسلوں سے کتب بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا تو حضرت میاں صاحب نے اس کو مثالی بنا کر توجہ 177