زندہ درخت — Page 174
زنده درخت حالت خراب ،جلد خستہ، اوراق بکھرے ہوئے ہوتے قریباً تین سوروپے کی کتب میں نے لے لیں اس ڈھیر کو دیکھ کر کسی نے کہا بھائی جی نے چورا خریدا ہے۔آخر میں نے مکرم چوہدری فیض احمد صاحب سے بات کی کہ لوگ کہتے ہیں رقم بر باد کر دی آپ کا کیا خیال ہے یہ کتب بک جائیں گی۔آپ نے بھی دیکھ کر کہ دیا کہ اگر صوفی علی محمد صاحب درویش کے امر دو بک جاتے ہیں تو یہ بھی ضرور بکیں گی۔صوفی صاحب معمولی سی چیز لا کر فروخت کیا کرتے تھے بعض دفعہ بہت دن لگ جاتے۔مگر میرے ساتھ یہ نہیں ہوا اس چورے سے جوڑ جوڑ کر جلد کر کے میں نے نادر ونایاب کتب محفوظ کیں۔سب سے قابل ذکر پرانی کتب سے علمائے سوء کے فتووں پر 42 کتب ملیں جو مولوی محمد صدیق صاحب کو پیش کیں جو خلافت لائبریری ربوہ کی زینت بنیں۔اس بات کی مجھے بہت خوشی ہے۔بہت فائدہ ہوا ان پرانی کتابوں سے۔الحمد للہ عجیب واقعہ کتابوں کے ذخیرہ میں دو کتابیں دیمک زدہ سی تھیں اس خیال سے کہ دوسری کتابیں متاثر نہ ہوں نکال کر باہر دھوپ میں رکھ دیں جالندھر کے ایک صاحب آئے اور سوال کیا کہ کوئی پرانی فوٹو یا قلمی کتاب ہو تو دکھا ئیں۔میں نے کہا آپ دیکھ لیں ساری کتابیں دیکھ کر دھوپ میں رکھی ہوئی دیمک خوردہ کتابیں پسند کیں مجھ سے قیمت پوچھی میں نے کہا چار روپے دے دیں۔وہ چار روپے دے کر چلے گئے۔دو تین دن کے بعد پرتاب اخبار میں خبر دیکھی کہ حکومت نے ایک پرانی قلمی کتاب آثار قدیمہ کے لئے خریدی ہے۔جو ایک مشہور ادیب کے قلمی خطوط ہیں۔اخبار میں لکھا تھا کہ بارہ سو میں خریدی ہے۔یہ اُس خریدار کی پہچان کا کرشمہ تھا۔جو کتاب میں نے لاعلمی میں چار روپے کی نیچی اُس نے اپنے علم سے فائدہ اُٹھا کر 1200 روپے میں دی ہوگی۔جو اب کسی عجائب گھر کی زینت ہوگی۔روی بیچنے والا لڑکا: تقسیم برصغیر سے پہلے کی بات ہے کہ ایک تیرہ چودہ سال کا صاف ستھرالڑ کار ڈی والے کو 174