زندہ درخت

by Other Authors

Page 152 of 368

زندہ درخت — Page 152

زنده درخت کہ یہ نعروں کے لئے پیٹنٹ ہے۔اتنے میں مہمان خصوصی آگئے۔میں نے زور سے پکارا طیب علی سب نے کہا زندہ باد اس کے بعد مجھے ہندوستان کا نعرہ لگانا تھا مگر سہواً، شومئی تقدیر سے منہ سے کچھ اور نکلا اور سب نے جو زندہ باد کہنے کے لئے تیار بیٹھے تھے جوا بازندہ باد کہا۔جب سب نے قہر آلود نظروں سے دیکھا تو احساس ہوا کہ کوئی غلطی ہوگئی ہے۔اور وہ بھی بہت بڑی۔اپنے پرائے سب پریشان ہو گئے۔میرا دل کہتا تھا کہ غلطی نادانستہ ہوئی ہے مگر ہوئی تو تھی۔لوگ بھی یہی کہہ رہے تھے کہ آدمی ایسا نہیں ہے یہ کیا ہو گیا انجمن والوں نے اجلاس بلایا۔اور تجویز کیا کہ قادیان سے باہر بھیج دیا جائے تاکہ کوئی انکوائری ہو تو کہا جاسکے کہ ہم نے خود کارروائی کر لی ہے۔مجھے قادیان سے باہر جانے کی شدید تکلیف تھی۔مگر دباؤ بہت تھا میں نے ایک خط گھر والوں کو لکھا کہ میرے پتے پر ابھی خط نہ لکھنا جب تک دوسرا پتہ نہ دوں۔مجھے خبر بھی نہ تھی کہ یہ خبر نعرہ لگانے والی کس قدر پھیل چکی ہے۔اب تو یہ بھی ڈر تھا کہ مجھے کبھی بھی پاکستان جانے کی اجازت نہ ملے گی۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد نے خط لکھ کر سارے حالات دریافت فرمائے۔مگر کسی وجہ سے دفتر سے جواب دینے میں تاخیر ہوگئی۔میری اہلیہ کو میرا خط ملا تو فکرمند ہوئی اور قادیان آنے کے ارادہ سے میاں صاحب کے پاس اجازت کے لئے گئی۔میاں صاحب نے فرمایا میں نے خط لکھا ہوا ہے حالات سے آگا ہی ہو تو پھر جانا چند دن کے بعد وہ پھر اجازت کے لئے گئی تو میاں صاحب نے فرمایا اب تو آپ کو جانا ہی چاہیے۔نیز فرمایا اُن سے کہ دیں کہ میں میاں عبدالرحیم کو جانتا ہوں۔وہ بہت مخلص ہے۔سہو منہ سے غلط نعرہ نکلا ہے۔یہ بھی کہیں کہ اُن کے کیس کے لئے یہاں لڑیں وہاں لڑیں او پر لڑیں مگر اس کو قادیان ہ سے باہر نہ بھیجیں اور اگر باہر بھیجنا ہے تو میرا بندہ مجھے واپس بھیج دیں۔میری اہلیہ نے آکر یہ پیغام دیا تب ہم سے یہ بلا ٹلی۔جب باز پرس ہوئی تو میں نے جو حقیقت تھی کہہ دی کہ بالارادہ نہیں سہو غلط نعرہ لگا دیا۔ایک لمبی کہانی ہے ابتلاؤں اور پریشانیوں کی۔جائیداد کسٹوڈین والوں نے پہلے ہی ضبط کر لی تھی۔1962ء سے ضبط شدہ پاسپورٹ بھی 152