زندہ درخت

by Other Authors

Page 122 of 368

زندہ درخت — Page 122

زنده درخت بدلتے ہوئے کہا: آپ جانتے ہیں میں کون ہوں؟ میں نے کہا: آج پہلی ملاقات ہے۔بڑی تمکنت اور رعونت سے کہا میں عبدالغفار غزنوی ہوں۔میں نے کہا میں نے یہ نام سنا تو ہوا ہے مگر آپ پر صادق نہیں آتا۔کیوں؟ اتنا بڑا لیڈر تو حوصلہ والا ہوتا ہے۔مگر آپ کے منہ سے جھاگ جاری ہے۔شخصیت کا رعب ڈال رہے ہیں۔اُس کے تیور ایسے بگڑے کہ دھکے دینے لگا۔پھر میر احشر یہ ہوا کہ کبھی کوئی دھکا دے رہا ہے تو کبھی کوئی۔وہاں جو سکھ دوست کھڑے تھے اُن میں سے کسی نے کہا جب اس کی بات کا جواب نہیں دے سکتے تو دھکے کیوں دیتے ہو۔پانچ سکھ دوست مجھے اپنے ساتھ لے کر وہاں سے ہٹ گئے۔میں نے اُن کو بھی دعوت الی اللہ کی۔الحمد للہ۔viii - گالیاں سُن کر دعــادو : دورہ کرتے کرتے تر متارن چلے گئے۔وہاں ایک گوردوارہ کے سامنے ایک تعلیم یافتہ مذہبی مزاج کے ڈاکٹر کو دعوت الی اللہ کی۔اُس نے کہا کہ بھائی میرے گھر کے پاس ایک درزی رہتا ہے۔اُس کو بھی آپ کے عقائد سننے کا شوق ہے اگر آپ اجازت دیں تو اُس کو بلا لاؤں۔میں نے کہا ہم تو آئے ہی اسی غرض سے ہیں ضرور بلا لیں۔درزی آیا تو بے چارہ معذور تھا اُس کی دونوں ٹانگیں پیدائشی طور پر بہت کمز ور تھیں۔وہ ہاتھوں کے بل چلتا ٹانگیں ساتھ گھسٹتی رہتیں اوپر کا دھڑ ٹھیک تھا۔اُس سے طویل بات چیت ہوئی۔بازار تھا ، راہ چلتے لوگ بھی جمع ہو گئے۔وفات مسیح پر بات ہو رہی تھی۔میں نے اُس سے کہا اچھا فرض کر لو مسیح آبھی جائیں اور آکر مر جائیں تو پھر لوگوں کو جن آیات سے آپ اُن کی وفات ثابت کریں 122