زندہ درخت — Page 114
زنده درخت صاحب سے ذکر کیا تو فرمایا کہ 48 گھنٹے میں ٹھیک ہو جائے تو اچھا ہوتا ہے بعد میں تو خطرہ ہوتا ہے کہ درست ہو یا نہ۔پھر فرمایا اچھا اُس کو اپنی دکان (واقعہ احمدیہ چوک) میں لے آئیں۔میں حضرت اماں جان سے ملنے جا رہا ہوں اُن کو بھی دیکھ لوں گا۔میں نے یہی کیا۔وہ اندر بیٹھی تھیں نماز کا وقت ہوا میں نے مسجد کا رخ کیا۔اتنے میں حضرت میر صاحب تشریف لے آئے مجھے آوازیں دیں۔میں موجود نہ تھا اور مریضہ بول نہ سکتی تھی۔اس لئے جواب نہ ملا۔آپ واپس چلے گئے۔میں نے آپ سے صورت حال عرض کی تو فرمایا میرے مکان ”الصفہ لے آئیں آپ نے اپنے شمالی صحن میں باغ میں بٹھایا۔اب دیکھئے اُن کا طریقہ علاج ایک دو پٹہ لے کر دونوں ہاتھوں پر لپیٹ کر جبڑے کو اچانک ایک جھٹکا دیا۔جبڑا اپنی جگہ پر فٹ ہو گیا۔آپ نے پوچھا اب ٹھیک ہے بول سکتی ہو۔اُس نے بول کر جواب دیا جی۔آپ نے بولنے سے منع فرمایا اور وہی دو پٹہ ٹھوڑی کے نیچے سے چکر دے کر سر پر باندھ دیا اور فرمایا دو دن تک یہ بالکل بات نہ کریں۔ایک کٹورے میں چھیچ رکھ دیں جب ضرورت ہو بجا کر کسی کو بلا لیں۔اللہ کا کرم دیکھئے کہ مریضہ بالکل ٹھیک ہوگئیں۔اسی طرح میرا بچہ عزیزم عبد الباسط آٹھ سال کا ہوا تو شدید بیمار ہو گیا۔ٹائیفائیڈ بخار اور نمونیہ ہو گیا۔ڈاکٹر بھائی محمود صاحب اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کا علاج کروایا مگر شامت اعمال بیماری طول پکڑتی گئی۔میں از حد پریشان تھا۔میرا بچہ بہت خوش الحانی سے قرآن پاک پڑھتا تھا میں یہی واسطہ دے کر اُس کی زندگی مانگتا۔حضور کو بار بار دُعا کے لئے لکھتا کبھی بیت میں روزے داروں کو دُعا کی درخواست کرتا کبھی دکان کے بورڈ پر دردمندانہ دُعا کی اپیل لکھتا۔میں اپنے محسن اور دلی دوست حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کے پاس گیا۔آپ گھروں پہ آ کر مریض نہ دیکھتے تھے۔فرمایا بچے کو ہسپتال لے جائیں میں و ہیں آکر دیکھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا اور دوا میں شفا رکھی تھی۔بفضل الہی بچہ صحت یاب ہوا اور مربی سلسلہ بن کر ساری زندگی خدمت دین میں گزاری۔اللہ تعالیٰ اس طرح بھی دُعائیں سنتا ہے۔114