زندہ درخت — Page 100
زنده درخت بدن خراب ہوتی گئی۔جس طرح میری والدہ صاحبہ کو وہ ایک نظر میں بھا گئی تھی میرے بھی دل میں اتر گئی تھی۔ایک سچا عاشق جس طرح اپنے معشوق کی علالت میں تیمارداری کر سکتا ہے میں نے اس سے بڑھ کر کی۔کوئی کسر نہ چھوڑی۔آخر سب نا اُمید ہو کر تھک ہار کر بیٹھ گئے۔تیمارداری، علاج معالجہ دیکھ پرداخت پر توجہ کم ہوگئی۔مگر ایک میں تھا کہ راتوں کو جاگتا اور دن بھر پٹی سے لگا رہتا۔بس نہ چلتا کہ خود کو قربان کر کے اُس کو بچالوں۔ایک رات ایسی آئی کہ والد صاحب آئے نبض دیکھی اور مایوس ہو کر لیٹ گئے۔سب گھر والے سو گئے۔میں جاگ رہا تھا اور حسب معمول اللہ تعالیٰ سے اُس کی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا۔اُس کی بیماری نے مجھے دعا مانگنے کا سلیقہ بھی سکھا دیا تھا۔بیماری کو ایک ماہ چودہ دن ہو گئے تھے۔اتنے لمبے عرصے کے بعد اُس نے آنکھیں کھولیں اور گردن گھما کر میری طرف دیکھا اور کہا آپ ابھی تک بیٹھے ہیں سو کیوں نہیں جاتے؟ میں نے بے ساختہ کہا تم کو اس حالت میں چھوڑ کر نیند کیسے آسکتی ہے؟ اس نے کہا اچھا جزاک اللہ۔مجھے بھوک لگی ہے۔پاس ہی یخنی پڑی تھی چند پیچ دیئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہوئے جا کر والد صاحب کو بتایا وہ بھی بے حد خوش ہوئے اور سجدہ شکر ادا کیا۔اُس وقت میری بیوی نے مجھ سے پہلی فرمائش کی جس سے اُس کی قادیان سے محبت پھوٹی پڑتی ہے بے حد نحیف آواز میں کہا: آپ مجھے بیت اقصیٰ کے کنوئیں کا پانی پلا سکتے ہیں؟ کنوئیں سے پانی لا کر اُسے پلایا۔پھر وہ دن بدن بہتر ہوتی گئی۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اُس نے ہم میاں بیوی کو آپس کی گہری محبت سے نوازا کچھ مدت کے بعد اُس کے بھائی میاں احمد دین صاحب ( درویش قادیان ) اُسے گاؤں لے جانے کے لئے آئے تو بھیجنا مشکل ہو رہا تھا۔گھوڑے پر سوار اُس کو روانہ تو کر دیا مگر واپسی پر گھر کا فاصلہ اس قدر دراز اور بوجھل لگا کہ طبیعت قابو میں نہ رہی۔حضرت نواب صاحب کے کنوئیں پر بیٹھ کر دل ہلکا کرنے کی کوشش کی پھر آنکھیں صاف کیں اور افسردگی سے گھر آکر کام میں مصروف ہو کر غم غلط کیا۔100