زندہ درخت

by Other Authors

Page 99 of 368

زندہ درخت — Page 99

زنده درخت کو حسن صورت اور حسن سیرت سے مزین دیکھ کر خوش ہوئیں اور اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر ہاں کر کے آگئیں۔غالباً کوئی رسم ادانہ کی ہوگی کیونکہ بعد میں کبھی ذکر نہیں ہوا۔والدہ صاحبہ نے گھر آ کر مجھے پاس بلایا، گود میں لے کر بڑے پیار سے منہ چوما اور ہلکی سی پیار بھری تھپکی لگاتے ہوئے کہا۔بچے تیری بیوی دیکھ کر آئی ہوں۔لڑکی کیا ہے! جنت کی حور ہے۔پھر ہم ہرسیاں سے قادیان منتقل ہو گئے۔جب میں اکیس بائیس سال کا ہوا تو چھپیں جنوری 1925ء کو شادی ہوئی ہم بارات ایک بس میں لے کر گئے اُس زمانے میں شاذ ہی بارات کے لئے بسیں استعمال ہوتی تھیں خاص طور پر گاؤں والوں کے لئے بڑی بات ہوتی۔میں کبھی کبھی آمنہ سے ترنگ میں کہتا کہ میں تو تمہیں بس میں بیاہ کر لایا تھا۔یعنی بہت شان سے۔گاؤں گئے تو معلوم ہوا کہ کھانا غیروں کے ہاتھ کا پکا ہوا ہے۔طبیعت نہ مانی سارا کھانا وہاں کے لوگوں میں تقسیم کر دیا گیا۔نئے سرے سے کھانا مسلمانوں سے پکوایا گیا۔میری بیوی واقعی طور تھی والدہ صاحبہ نے ٹھیک ہی کہا تھا۔ہمیں شادی کے جلد بعد بہت بڑی آزمائش سے گزرنا پڑا۔دعوت ولیمہ ہو رہی تھی حضرت اقدس خلیفتہ اسیح الثانی تشریف لائے ہوئے تھے میں نے اس کو دکھایا کہ دیکھو حضور تشریف لائے مگر اُس کو بخار چڑھ رہا تھا۔اچھی طرح دیکھ نہ پارہی تھی پھر بخار بہت تیز ہو گیا اور خطرناک صورت اختیار کر گیا۔کسی طرح آرام نہ آرہا تھا میں حضرت صاحب کی خدمت میں دعا کے لئے درخواست کرنے گیا۔میری پریشانی دیکھ کر حضور نے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کو معائنہ کی ہدایت فرمائی آپ اُس وقت قادیان کے نواحی علاقے میں ٹینس کھیل رہے تھے حضور کا ارشادسن کر میرے ساتھ تشریف لائے ڈاکٹر رشید الدین صاحب بھی تشریف لائے اور مشورہ سے نسخہ تجویز کیا۔مکرم حکیم صاحب کو بھی آمنہ بیگم کی بیماری کی اطلاع دی گئی آپ نے سفر کے لئے ایک گھوڑا رکھا ہوا تھا گھوڑے پر قادیان آئے بچی کی حالت دیکھی خود حکیم تھے بیماری کی شدت کا اندازہ تھا افسردگی سے فرمایا۔”اچھا اللہ تعالیٰ کو ایسا ہی منظور تھا میری بچی تو زندگی میں ہی جنت میں آگئی تھی۔چند دن ٹھہر کر آپ واپس تشریف لے گئے آمنہ کی حالت دن 99