ذکر حبیب — Page 335
335 بعد الموت انگریز : میں آئندہ زندگی کے متعلق آپ کے خیالات دریافت کرنا چاہتا ہوں۔مسیح موعود : جب اس زندگی کا خاتمہ ہو جاتا ہے تو ایک نئی زندگی نئے لوازم کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔اگلی زندگی اسی زندگی کا ظل واثر ہے۔جنہوں نے اچھی تخم ریزی کی وہ وہاں اپنے لئے اچھے پھل پائیں گے۔جنہوں نے بُری تخم ریزی کی۔وہ پھل بھی بُرا پائیں گے۔یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس زندگی کا تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔اس کی مثال عالم خواب سی ہے۔جس وقت انسان سو جاتا ہے۔معاً اس کی زندگی میں ایک انقلاب آ جاتا ہے۔پہلی زندگی کا نام نہیں رہتا۔ہم اس مختصر وقت میں زیادہ تفصیل نہیں دے سکتے۔روحوں سے ملاقات اس کے بعد میں نے کچھ پوچھنا چاہا۔اجازت پر اُس نے عرض کیا کہ آیا یہ ممکن ہے کہ جو لوگ اس دنیا سے گذر چکے ہیں۔اُن سے ہم صحیح پیام اطلاع حاصل کر سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ انسان کشفی طور سے گذشتہ روحوں سے مل سکتا ہے مگر اس کے لئے یہ ضروری امر ہے کہ رُوحانی مجاہدات کئے جاویں۔بے شک ان سے مفید مطلب باتیں دریافت کر سکتا ہے مگر اس کے لئے بہت سے مجاہدات کی ضرورت ہے۔جو اس زمانہ کے لوگوں سے نہیں ہو سکتے۔جبھی وہ ایسی باتوں سے انکار کرتے ہیں۔میرا مذہب ہے کہ انسان خواب میں نہیں ، بلکہ بیداری میں مردوں سے مل سکتا ہے چنانچہ حضرت مسیح سے میری ملاقات ہو چکی ہے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ایسا ہی اور اہل قبور سے میں نے ملاقات کی۔یہ بات تو سچ ہے مگر ہر ایک کے لئے میٹر نہیں۔انسان کے قلب کی حالت کچھ ایسی ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے عجائبات ڈال رکھے ہیں جیسے کنوئیں کو کھودا جائے تو آخر بہت سی محنت کے بعد مصفا پانی نکل آتا ہے۔اسی طرح سے جب تک مجاہدہ پورے طور سے انتہا ء تک نہ پہنچے صحیح وصاف خبر حاصل نہیں ہو سکتی۔پروفیسر ریگ کا دوبارہ حضرت کی ملاقات کے واسطے آنا اور مشکل مسائل کا حل ہونا پہلی ملاقات سے پروفیسر کی اس قدر تشفی ہوئی۔اور اس کے سوالات پر جو جوابات حضرت