ذکر حبیب

by Other Authors

Page 71 of 381

ذکر حبیب — Page 71

71 علامت ہے۔قرآن شریف معجزہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔اس لئے مسلمان کو چاہیے کہ قرآن شریف میں ہمیشہ تدبر کیا کرے تا خود اُس کے معجزہ ہونے کو سمجھے۔قرآن شریف صرف فصاحت بلاغت میں معجزہ نہیں بلکہ جن جن ناموں سے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کا ذکر کیا ہے اُن سب میں بے نظیر ہے اور اُن امور میں کوئی اس کی مثال نہیں لاسکتا۔قرآن شریف کی نسبت خدا تعالیٰ نے صرف یتر نا القرآن ہی نہیں فرمایا بلکہ اس کو نور ، حق ، حکمت، تفصیل لکل شی ، ہدایت فرمایا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيراً۔دوسرے لوگوں کی تصنیفوں میں ایک مخفی تعارض ضرور پاؤ گے۔مگر قرآن شریف نے ہر ایک مسئلہ کو شروع سے آخیر تک ایک ہی طرح نبھایا ہے مثلاً توحید کا مسئلہ عدم رجوع، موتی ، وفات عیسیٰ علیہ السلام ، بڑا فساد نصاریٰ کا ہو گا جو تثلیث کی منادی کرتے ہیں اور وہی دجال ہوں گے۔خلفاء اُمت محمدیہ کا سلسلہ موسوی سلسلہ کے مشابہ ہو گا اور جس طرح کہ موسوی سلسلہ کے خاتم الخلفاء حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام تھے ایسا ہی سلسلہ محمدیہ کا خاتم الخلفاء بھی ایک مسیح ہو گا۔قرآن شریف کا ایک اور معجزہ اخبار امور غیبیہ ہے۔ہر ایک آیت ایک پیشگوئی اپنے اندر رکھتی ہے۔قصے بھی پیشگوئیوں کے رنگ میں بیان کئے گئے ہیں۔اس زمانے کے لوگ قرآن شریف کی پیشگوئیوں کو خوب سمجھتے تھے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مفسر کامل موجود تھے۔وہ اپنے خطبوں اور وعظوں میں (جو اب محفوظ نہیں ) دشمن و دوست کو قرآن شریف کی پیشگوئیاں کھول کر سُناتے تھے۔خدا تعالیٰ اپنی وحی کے سمجھانے کے لئے مناسب طبیعتیں پیدا کرتا ہے اور مخالف خوب سمجھتے تھے کہ قرآن شریف ہمارے ادبار اور اسلام کے اقبال کی پیشگوئیاں کرتا ہے۔خدا تعالیٰ نے اُن کی طبیعتوں میں قرآن شریف کی پیشگوئیاں سمجھنے کی مناسبت رکھی تھی۔چنانچہ ایک شخص کی نسبت فرماتا ہے فکر وقدر عبودیت کی طاقت سے اخبارا مور غیبیہ برتر ہیں اور کوئی کتاب اس امر میں قرآن شریف کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ہیئت دان بھی جو نظارہ دیکھتا ہے خواہ وہ اُس کے مخالف مرضی ہو یا موافق مرضی ہو ، اُسی کے مطابق بیان کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔قرآن شریف کی طرح اپنے اقبال اور دشمن کے ادبار کے متعلق دعوئی کے ساتھ پیشگوئیاں کرنا کسی انسان کی طاقت میں نہیں۔دوسرے معجزوں کی نسبت پیشگوئی کا معجزہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ، نبوت سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔عصا کا سانپ ہو جانا نبوت کی تصدیق سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔قرآن شریف کے معجزات ایسے ہیں ، کہ وہ خدائی طاقت اپنے نبی کو دیتے ہیں اور اُن پیشگوئیوں کے مطابق اپنا اقبال