ذکر حبیب — Page 214
214 برابر عمر پائی ہو۔یعنی ایسے دعوے پر وہ ۲۳ سال زندہ رہا ہو۔تو ہم اپنی ساری کتا بیں جلا دیں گے۔ہمارے ساتھ کینہ کرنے میں ان لوگوں نے ایسا غلو کیا ہے کہ اسلام پر جنسی کرتے ہیں۔اور خدا کے کلام کے مخالف بات کرتے ہیں۔گوان کی ایسی بات کرنے سے قرآن جھوٹا نہیں ہوتا۔پھر بھی ہم کو جھٹلاتے ہیں۔مگر تعصب بُرا ہے۔ایسی بات بولتے ہیں۔جس سے قرآن شریف پر ز د ہو۔ہمارا تو کلیجہ کا نپتا ہے، کہ مسلمان ہو کر ایسا کرتے ہیں۔ایک تو وہ مسلمان تھے۔کہ بظاہر ضعیف حدیث میں بھی اگر کوئی سچائی پاتے تو اس کو قبول کرتے ، اور مخالفوں پر حجت میں پیش کرتے اور ایک یہ ہیں کہ قرآن کی دلیل کو نہیں مانتے ہم تو حافظ صاحب کو بلاتے ہیں۔کہ شائستگی سے خلق و محبت سے چند دن یہاں آ کر رہیں۔ہم ان کا حرجانہ دینے کو تیار ہیں۔نرمی سے ہمارے دلائل کو نہیں۔اور پھر اپنا اعتراض کریں۔مولوی احمد اللہ صاحب کو بھی بے شک اپنے ساتھ لائیں۔“ براہین احمدیہ کی پیشگوئیوں پر غور بابو محمد صاحب نے عرض کی۔کہ حافظ محمد یوسف صاحب اعتراض کرتے تھے کہ مولوی عبدالکریم صاحب نے الحکم میں یہ کفر لکھا ہے کہ یہ وہ احمد عربی ہے۔فرمایا ” حافظ صاحب سے پوچھو۔کہ براہین احمدیہ میں جو میرا نام محمد لکھا ہے۔اور مسیح بھی لکھا ہے۔اور تم لوگ اس کو پڑھتے رہے۔اور اس کتاب کی تعریف کرتے رہے اور اس کے ریویو میں لمبی چوڑی تحریر میں لکھتے رہے۔تو اس کے بعد کونسی نئی بات ہوئی ہے۔مولوی نذیر حسین دہلوی نے اس کتاب کے متعلق خود میرے سامنے کہا تھا۔کہ اسلام کی تائید میں جیسی عمدہ یہ کتاب لکھی گئی ہے۔ایسی کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔اس وقت منشی عبد الحق صاحب بھی موجود تھے۔اور بابو محمد صاحب بھی موجود تھے۔یہ وہ زمانہ براہین کا تھا جبکہ تم خود تسلیم کرتے تھے کہ اس میں کوئی بناوٹ وغیرہ نہیں۔اگر یہ خدا کا کلام نہ ہوتا تو کیا انسان کے لئے ممکن تھا کہ اتنی مدت پہلے سے اپنی پڑی جمائے۔اور ایسا لمبا منصو بہ سوچے۔اب چاہئیے ، کہ یہ لوگ اس نفاق کا جواب دیں۔کہ اُس وقت کیوں ان لوگوں کو یہی باتیں اچھی معلوم ہوتی تھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے۔کہ مہدی جو آنے والا ہے۔اس کے باپ کا نام میرے باپ کا نام ، اور اس کی ماں کا نام میری ماں کا نام ہوگا۔اور وہ میرے خلق پر ہوگا۔اس سے آنحضرت کا یہی مطلب تھا کہ وہ میرا مظہر ہو گا۔جیسا کہ ایلیاء نبی کا مظہر یو حتا نبی تھا۔اس کو صوفی بروز کہتے ہیں۔کہ فلاں شخص موسی کا مظہر اور فلاں عیسی کا مظہر ہے۔نواب صدیق حسن خان صاحب نے بھی اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اخرينَ مِنْهُمُ سے وہ لوگ مراد ہیں۔جو مہدی کے ساتھ ہوں گے۔اور وہ قائم مقام صحابہ کے ہوں گے