ذکر حبیب — Page 215
215 اور ان کا امام یعنی مہدی قائم مقام حضرت رسُول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوگا۔فقط (۸) ڈائری حضرت امام ہمام علیہ الصلوۃ والسلام افراط و تفریط کا بدلہ کسی مقام پر ایسی کثرت بارش کا ذکر تھا جس سے بہت نقصان کا اندیشہ ہوا۔حضرت نے فرمایا ” جیسا کہ لوگ احکام الہی کے معاملہ میں افراط و تفریط کرتے ہیں۔اس کے جواب میں اللہ "❝ تعالیٰ بھی ان کے ساتھ افراط و تفریط کا معاملہ کرتا ہے۔وظیفه استغفار ایک شخص نے پوچھا کہ میں کیا وظیفہ پڑھا کروں۔فرمایا ”استغفار بہت پڑھا کرو۔اِنسان کی دو ہی حالتیں ہیں۔یا تو وہ گناہ ہی نہ کرے۔اور یا اللہ تعالیٰ اس کو گناہ کے بد انجام سے بچالے۔سواستغفار پڑھنے کے وقت دونوں معنوں کا لحاظ رکھنا چاہئیے۔ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ سے گذشتہ گناہوں کی پردہ پوشی چاہے۔اور دوسرا یہ کہ خدا سے تو فیق چاہے کہ آئندہ گنا ہوں سے بچالے۔مگر استغفار صرف زبان سے پورا نہیں ہوتا۔بلکہ دل سے چاہیے۔نماز میں اپنی زبان میں بھی دعا مانگو یہ ضروری ہے۔“ تقویٰ سے مُراد کیا ہے فرمایا ” تقویٰ اختیار کرو۔تقویٰ ہر چیز کی جڑھ ہے۔تقویٰ کے معنی ہیں۔ہر ایک بار یک در بار یک گناہ سے بچنا۔تقویٰ اس کو کہتے ہیں کہ جس امر میں بدی کا شبہ بھی ہو۔اس سے بھی کنارہ کرے۔“ دل کی مثال فرمایا ” دل کی مثال ایک بڑی نہر کی سی ہے۔جس میں سے اور چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں۔جن کو سوا کہتے ہیں۔یا راجباہا کہتے ہیں۔دل کی نہر میں سے بھی چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں۔مثلاً زبان وغیرہ۔اگر چھوٹی نہر یعنی سُوئے کا پانی خراب اور گندہ اور میلا ہو۔تو قیاس کیا جاتا ہے۔کہ بڑی نہر کا پانی خراب ہے۔پس اگر کسی کو دیکھو کہ اس کی زبان یا دست و پا۔وغیرہ میں سے کوئی عضو نا پاک ہے تو سمجھو کہ اس کا دل بھی ایسا ہی ہے۔غیروں سے علیحدگی کی ضرورت اپنی جماعت کا غیروں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کے متعلق ذکر تھا۔فرمایا ” صبر کرو اور اپنی