ذکر حبیب

by Other Authors

Page 144 of 381

ذکر حبیب — Page 144

144 بصیرت پیدا ہو گی۔ان زہروں کو دُور کرنے کے واسطے جو رُوح کو تباہ کرتی ہیں۔کسی تریاقی صحبت کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ انسان مہلکات کا علم حاصل کرے اور نجات دینے والی چیزوں کی معرفت حاصل کر لے۔انسان کامل مومن اُس وقت تک نہیں ہوتا۔جب تک کہ کفار کی باتوں سے متاثر نہ ہونے والی فطرت حاصل نہ کر لے اور یہ فطرت نہیں ملتی جب تک اس شخص کی صحبت میں نہ رہے جو گم شدہ متاع کو واپس دلانے کے واسطے آیا ہے۔پس جب تک کہ وہ اس متاع کو نہ لے لے اور اس قابل نہ ہو جائے کہ مخالف باتوں کا اس پر کچھ بھی اثر نہ ہو۔اس وقت تک اس پر حرام ہے کہ اس صحبت سے الگ ہو کیونکہ وہ اُس بچہ کی مانند ہے، جو ابھی ماں کی گود میں ہے اور صرف دُودھ ہی پر اس کی پرورش کا انحصار ہے۔پس اگر وہ بچہ ماں سے الگ ہو جاوے تو فی الفور اس کی ہلاکت کا اندیشہ ہے۔اسی طرح اگر وہ صحبت سے علیحدہ ہوتا ہے تو خطرناک حالت میں جا پڑتا ہے۔پس بجائے اس کے کہ دوسروں کو درست کرنے کے لئے کوشش کر سکتا ہو۔خود اُلٹا متاثر ہو جاتا ہے اور اوروں کے لئے ٹھوکر کا باعث بنتا ہے۔اس لئے ہم کو دن رات جلن اور خواہش یہی ہیلوگ بار بار یہاں آئیں اور دیر تک صحبت میں رہیں۔انسان کامل ہونے کی حالت میں اگر ملاقات کم کر دے، اور تجربہ سے دیکھ لے کہ قوی ہو گیا ہوں تو اُس وقت اُسے جائز ہو سکتا ہے کہ ملاقات کم کر دے کیونکہ وہ بعید ہو کر بھی قریب ہوتا ہے لیکن جب تک کمزوری ہے۔وہ خطرناک حالت میں ہے۔(۱۳) ایمان کامل چاہئیے ؟ فرمایا کرتے تھے گناہوں میں گرنا کمزوری ایمان کا نتیجہ ہے۔جب خدا تعالیٰ پر پورا پورا ایمان ہو، تو پھر انسان ایسا کام کر ہی نہیں سکتا جو اللہ تعالیٰ کی نارضامندی کا موجب ہے جیسا کہ کوئی شخص سانپ کے سوراخ میں اپنی انگلی نہیں ڈالتا کیونکہ اُسے پورا یقین اور ایمان ہے کہ اس سے مجھے دُکھ اور درد پہنچے گا۔ایسا ہی کسی شخص کو کوئی زہر کھانے کے واسطے دیا جائے اور اسے معلوم ہو کہ یہ زہر ہے تو ہر گز نہیں کھائے گا خواہ ہزاروں روپے کا ساتھ لالچ دیا جائے کیونکہ وہ جانتا ہے، اور ایمان رکھتا ہے کہ اس سے وہ ہلاک ہو جائے گا۔ایسا ہی جب خدا تعالیٰ پر کامل ایمان حاصل ہو تو ایک گناہ سوز فطرت پیدا ہو جاتی ہے۔خدا پر پورا ایمان لانے سے انسان فرشتہ بن جاتا ہے بلکہ ملائکہ کا مسجود ہو جاتا ہے اور نورانی ہو جاتا ہے۔(۱۴) شخصی تبلیغ فرمایا کرتے ' انبیاء کا یہ قاعدہ ہے کہ شخصی تدبیر نہیں کرتے۔نوع کے پیچھے پڑتے ہیں۔