ذکر حبیب — Page 145
145 جہاں شخصی تدبیر آئی وہاں چنداں کا میابی نہیں ہوتی۔کسی ایک شخص کے پیچھے لگ جانا کہ یہی ہدایت پاوے ، تب جماعت بنتی ہے ٹھیک نہیں۔تبلیغ کو عام کرنا چاہئیے۔پھر ان میں سے اللہ تعالیٰ جس کو توفیق دے ، وہ قبول کرے اور داخل ہو جائے۔“ (۱۵) نزول انوار فرمایا کرتے ”ہم نے خود تجربہ کر کے دیکھا ہے۔متعدد مرتبہ آزمایا ہے بلکہ ہمیشہ دیکھتے ہیں کہ جب انکسار اور تذلل کی حالت انتہاء کو پہنچتی ہے اور ہماری رُوح اس عبودیت اور فروتنی میں یہ نکلتی ہے اور آستانہ الوہیت حضرت واہب العایا پر پہنچ جاتی ہے۔تو ایک روشنی اور ٹور اوپر سے اُترتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے۔جیسے ایک نالی کے ذریعہ سے مصفا پانی دوسری نالی میں پہنچتا ہے۔(۱۶) صادِق کا انجام فرمایا کرتے تھے خدا تعالیٰ کے صادق بندے آزمائیشوں میں ڈالے جاتے ہیں اور مصائب میں کچلے جاتے ہیں مگر اس لئے نہیں کہ وہ تباہ ہو جائیں بلکہ اس لئے کہ تا اُن کا جو ہر قابل جلا پکڑے اور ان کی اندرونی خوبیاں ظاہر ہوں۔انجام اُن کا بخیر ہوتا ہے اور آخری فتح اور کامیابی اُن ہی کے لئے ہوتی ہے۔وہ بڑھتے ہیں اور پھلتے ہیں اور اُن میں برکت پیدا ہوتی ہے۔(۱۷) عذاب کا وعدہ ٹل جاتا ہے فرمایا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کے حضور میں خشوع و خضوع کے ساتھ دُعائیں کرنے اور گریہ و زاری کرنے اور صدقہ و خیرات سے آنے والی بلائل جاتی ہے۔اگر چہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور وعید کے پیشگوئی بھی ہو کوئی فرد یا قوم ہلاک ہو جائے گی مگر جب وہ قوم وقت پر تو بہ میں لگ جاتی ہے تو وعیدٹل جاتا ہے۔خدا تعالیٰ رحیم کریم ہے۔“ (۱۸) ظاہر پرستی درست نہیں فرمایا کرتے تھے الہامی پیشگوئیوں میں استعارات ہوتے ہیں جس طرح سے وہ پیشگوئیاں اپنے وقت پر پوری ہوں۔قرائن اور نشانات کے ساتھ ان کو قبول کرنا چاہئیے۔الفاظ کے ظاہری معنوں کے پیچھے پڑا رہنا اچھا نہیں۔اس سے پہلی قو میں ہلاک ہوئیں۔جیسا کہ یہود نے حضرت عیسی کا اس واسطے انکار کیا کہ حضرت عیسی پیشگوئیوں کے ظاہر الفاظ کے مطابق دنیوی بادشاہت لے کر نہ آئے جس سے یہو د ملک فلسطین پر حکمران ہو جاتے۔