ذکر حبیب — Page 124
124 جب حضرت صاحب کتاب نزول المسیح پر مسودہ لکھ رہے تھے تو حضور نے ارادہ فرمایا کہ اس کتاب کے اندر ان اعتراضات کی ایک فہرست شائع کی جائے جو عام طور پر عیسائی مذہب پر کئے جاتے ہیں۔اس فہرست کا تیار کرنا عاجز کے سپر د ہوا۔چنانچہ وہ فہرست تیار کر کے میں نے حضرت صاحب کے حضور پیش کی اور وہی کتاب کے اندر درج ہوئی۔نقشہ پیشگوئیاں کتاب نزول المسیح میں جو نقشہ پیشگوئیوں کا دیا گیا ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمانے سے عاجز راقم نے ہی تیار کیا تھا اور ہر ایک پیشگوئی کے حاشیہ میں جو گواہوں کی ایک فہرست ہے۔اوس کے تیار کرنے میں خلیفہ نورالدین صاحب ساکن جموں نے عاجز کی خاص امداد فرمائی تھی۔نقشہ طیار کر کے حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کیا گیا اور حضرت صاحب نے مناسب اصلاح کر کے اُسے درج کیا۔مولوی محمد احسن صاحب امروہی کی ناراضگی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عمر کے آخری سالوں کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ مولوی محمد علی صاحب نے جو صدر انجمن کے سیکرٹری تھے۔یہ تجویز پیش کی کہ مولوی سید محمد احسن صاحب کو مقبرہ بہشتی کی افسری سے علیحدہ کیا جائے۔ان کی وہی تنخواہ بلحاظ واعظ ہونے کے مقرر ہو کر ملتی رہے۔عاجز بھی مجلس ناظم کا ممبر ہونے کی حیثیت سے حاضر تھا۔خود مولوی سید محمد احسن صاحب بھی اجلاس میں موجود تھے۔ریزولیوشن پیش ہوا۔بغیر کسی بحث کے چُپ چاپ پاس ہو گیا اور دوسرے ریز و لیوشن شروع ہو گئے۔چند منٹوں کے بعد مولوی محمد احسن صاحب نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور اُٹھ کر چلے گئے اور دوسرے دن جب انہیں پاس شدہ ریزولیوشن کی نقل پہنچی تو چارج دینے سے انکار کیا اور میدان میں شور مچایا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس جا کر شکایت کی جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مولوی محمد علی صاحب کو رقعہ لکھا کہ مولوی سید محمد احسن صاحب کو ان کے کام پر بہر حال رکھا جائے۔اس پر مولوی محمد علی صاحب بہت ناراض ہوئے۔مجھے وہ رقعہ دکھایا اور کہا کہ میں تو اب اس کام سے رُخصت لے لوں گا۔جب ہمارے پاس کردہ ریز ولیوشنوں سے یہ سلوک ہوتا ہے، تو پھر اس کام پر رہنے سے کیا فائدہ۔شکایت نہ سُنا کرتے