ذکر حبیب

by Other Authors

Page 99 of 381

ذکر حبیب — Page 99

99 اس وقت صبح 4 بجے کے قریب قادیان میں بھی سخت زلزلہ محسوس ہوا مگر یہ خدا کا فضل رہا کہ جیسا کہ لاہور ، امرتسر میں کئی ایک مکانات گر گئے اور آدمی مر گئے اور بہتوں کو چوٹیں آئیں ایسا کوئی حادثہ قادیان میں نہیں ہوا۔میں ان دنوں کچھ بیمار تھا اور خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میرا علاج کرتے تھے۔روزانہ تازہ ادویہ منگوا کر اور ایک گولی اپنے ہاتھ سے بنا کر مجھے بھیجا کرتے تھے۔میں اس وقت اپنے اہل بیت کے ساتھ حضرت مسیح موعود کے مکان میں اس کمرہ میں مقیم تھا جو گول کمرے کے نام سے مشہور ہے اور جس میں میں قادیان میں سب سے پہلی دفعہ ۱۸۹ء کے ابتدا میں آنکر مقیم ہوا تھا۔چونکہ زلزلے کے اس بڑے دھکے آنے کے بعد بھی چند گھنٹوں کے وقفے پر بار بار زمین ہلتی تھی اس واسطے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ تجویز کی کہ مکانات کو چھوڑ کر باہر باغ میں ڈیرہ لگایا جائے۔اکثر دوست بمع قبائل باہر چلے گئے اور چھوٹی چھوٹی جھونپڑیاں بنالی گئیں اور بعض نے خیمے کھڑے کر لئے اور کئی ماہ تک اسی باغ میں قیام رہا۔انہی ایام میں جاپان کا ایک پروفیسر اموری جو علم زلازل کے محقق اور مبصر تھے ان زلازل کی تحقیقات کے واسطے ہندوستان آیا تھا اور بعد تحقیقات اُس نے فیصلہ کیا تھا کہ یہاں اب کئی سال تک اور کوئی زلزلہ نہیں آئے گا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی الہامی پیشگوئی شائع کی تھی کہ موسم بہار میں پھر زلزلہ آئے گا۔چنانچہ دوسرے سال ایسا ہی ایک شدید زلزلہ پھر آیا۔جاپانی پر و فیسر کو تبلیغ میں نے اس وقت ڈاکٹر اموری کو جبکہ وہ ہندوستان میں تھا ایک تبلیغی خط لکھا تھا جس کا اُس نے شکریہ ادا کیا اور پھر جب اُس کے کہنے کے خلاف فروری ۱۹۰۶ء میں پھر زلزلہ آیا تو پھر اُس کو تبلیغی خط جاپان بھیجا گیا مگر اس وقت اس کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔اخبار بدر کی ایڈیٹری ۲۱ مارچ ۱۹۰۵ء کو محمد افضل خان صاحب مرحوم جو اخبار البدر کے مالک اور ایڈیٹر تھے قادیان میں فوت ہوئے۔اس وقت احباب کے مشورے سے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی اجازت سے اخبار البدر کی مینجری اور ایڈیٹری کا کام میرے سپرد ہوا اور اخبار البدر کا نام تبدیل ہو کر نفا و لا بد ر رکھا گیا۔سعیده مرحومه زلزلہ کے سبب جب ہم سب لوگ باغ میں مقیم تھے تو میری ایک لڑکی جس کا نام سعیدہ تھا