ذکر حبیب — Page 100
100 مرض ام الصبیان میں بیمار ہو کر فوت ہو گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس کا جنازہ پڑھایا اور قادیان کے شرقی جانب جو قبرستان ہے اُس میں اُسے دفن کیا گیا۔اُس کی عمر تین سال کی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے تشفی دیتے ہوئے فرمایا کہ لڑکیوں کا معاملہ مشکلات کا ہوتا ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی کوئی حکمت ہوگی جو چھوٹی عمر میں اس کی وفات ہوگئی۔زلازل سے قیامت کی دلیل زلزله ۱۹۰۵ء کا ذکر تھا۔حضرت نے فرمایا کہ یہ ایک قیامت ہے جو لوگ قیامت کے منکر ہیں وہ اب دیکھ لیں کہ کس طرح ایک ہی سیکنڈ میں ساری دنیا فنا ہوسکتی ہے۔جب لوگوں کو بہت امن اور آسودگی حاصل ہو جاتی ہے تو وہ خدا سے اعراض کرتے ہیں یہاں تک کہ خدا کا انکار کر دیتے ہیں۔اس قسم کا امن ایک خباثت کا پھوڑا ہے۔یہ قیامت لوگوں کے واسطے عذاب ہے مگر ہمارے واسطے مفید ہے۔“ جماعت کی اصلاح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عادت تھی کہ ہر موقع پر جماعت کو اصلاح اور پاکیزگی کی طرف متوجہ فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ اس زلزلہ کے وقت فرمایا ” یہ ایک ہلاکت کا نشان ہے۔جماعت کے سب لوگوں کو چاہیے کہ اپنی حالتوں کو درست کریں۔تو بہ واستغفار کریں اور تمام شکوک و شبہات کو دور کر کے اور اپنے دلوں کو پاک وصاف کر کے دُعاوں میں لگ جائیں اور ایسی دُعا کریں کہ گویا مر ہی جائیں تاکہ خدا ان کو اپنے غضب کی ہلاکت کی موت سے بچائے۔بنی اسرائیل جب گناہ کرتے تھے تو حکم ہوتا تھا کہ اپنے تئیں قتل کرو۔اب اس امت مرحومہ سے وہ حکم تو اُٹھایا گیا ہے مگر یہ اس کی بجائے ہے کہ ایسی دُعا کرو کہ گویا اپنے آپ کو قتل ہی کر دو۔“ مخالفین کا وجود موجب رونق اہل حدیث وغیرہ مخالفین کا ذکر تھا کہ بیجا حملے کرتے ہیں اور ناحق دل دکھاتے ہیں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا یہ ہمارے سلسلہ کی رونق ہیں۔اگر اس قسم کے شور انے والے نہ ہوں تو رونق کم ہو جاتی ہے کیونکہ جس نے مان لیا وہ تو اپنے آپ کو فروخت کر چکا اور مثل مردہ کے ہے، وہ کیا بولے گا۔وہ تو زبان کھول ہی نہیں سکتا۔اگر سارے ابو بکر ہی بن جاتے تو پھر ایسی بڑی بڑی نصرتوں کی کیا ضرورت پڑتی جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ظاہر ہوئی تھیں۔دیکھو سنت اللہ یہی ہے کہ پہلے سخت گرمی پڑے پھر برسات ہو۔پس تم خوش ہو کہ ایسے آدمی