ذکر حبیب

by Other Authors

Page 98 of 381

ذکر حبیب — Page 98

98 پادری اسکاٹ سے ملاقات ۱۹۰۴ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام بمع خدام سیالکوٹ سے واپس قادیان کو آ رہے تھے اور آپ کی سیکنڈ کلاس گاڑی وزیر آباد سٹیشن پر دوسری گاڑی کے ساتھ لگانے کے واسطے ایک سائڈ لائن پر کھڑی تھی تو سیالکوٹ کے مشہور پادری سکاٹ صاحب وہاں آئے اور موٹی پنجابی زبان میں بیچ قوموں کے لہجہ میں کہنے لگے : ”مرزا جی تساں میرامنڈ اکھولیا۔“ یعنی مرزا صاحب آپ نے میرا لڑکا چھین لیا۔اس سے اُن کی مُراد شیخ عبدالحق صاحب بی۔ا۔سے تھی جو پہلے اسلام سے عیسائی ہوئے تھے اور مشن کالج میں پڑھتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ خط و کتابت کر کے قادیان آئے تھے اور یہاں مسلمان ہو گئے تھے اور کئی ایک رسانے اسلام کی تائید اور عیسائیت کی تردید میں شائع کئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پادری صاحب کو مخاطب کر کے کہا : یہ زبان جو آپ بول رہے ہیں یہ شرفا کی زبان نہیں۔اُس کے بعد وفات مسیح اور قبر مسیح کے متعلق کچھ باتیں ہوتی رہیں لیکن جب پادری صاحب کی نگاہ شیخ یعقوب علی صاحب پر پڑی کہ وہ اس گفتگو کو تحریر کر رہے ہیں تو پادری صاحب بہت ہی گھبرائے اور شیخ صاحب کی منتیں کرنے لگے کہ یہ کوئی مباحثہ کی باتیں نہیں ہیں۔معمولی طور پر دوستانہ گفتگو ہے۔آپ اس کو ہر گز شائع نہ کریں۔سال ۱۹۰۵ء جنازہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جب حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ کی لاش نماز جنازہ کے واسطے میدان میں رکھی گئی اور آپ کا منہ کھولا گیا تا کہ لوگ دیکھ لیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جنازہ پڑھانے کے واسطے تشریف لائے تو حضور نے فرمایا : منہ ڈہانک دو دیکھا نہیں جاتا۔چنانچہ منہ ڈہانکا گیا اور حضور نے جنازہ پڑھایا۔حالات زلزلہ ۱۴ اپریل 1903ء کی صبح کو جب کہ پنجاب میں تخت زلزلہ آیا اور کا گڑہ کے پہاڑ میں کئی ایک بستیاں بالکل تباہ ہو گئیں اور ہندوؤں کی دیوی جوالامکھی کی لاٹ بجھ گئی اور عمارت مسمار ہوگئی ،