ذکر حبیب

by Other Authors

Page 97 of 381

ذکر حبیب — Page 97

97 مُبارک کی چھت کے ہم سطح اُس وقت بنائی گئی تھی مگر بعد میں اُکھاڑ دی گئی۔میں اُس کھڑکی کے پاس آکر بیٹھا۔اندر مولوی صاحب پلنگ پر لیٹے ہوئے تھے۔ان کے بدن سے سخت تپش آ رہی تھی۔میں نے کھڑکی میں سے ہاتھ اندر کر کے ان کے بدن پر لگایا۔تو بخار بہت شدید معلوم ہوا۔وہ وصیت کی باتیں کرنے لگے کہ انجمن کے رجسٹر کہاں ہیں اور روپیہ کہاں ہے مگر میں انہیں تشفی دیتا تھا کہ آپ گھبرائیں نہیں انشاء اللہ آرام ہو جائے گا۔اسی اثناء میں اندر کے راستے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے۔آپ کے چہرہ پر تبسم تھا۔اور آپ نے ایک جذبے کے ساتھ اپنا ہاتھ مولوی محمد علی صاحب کے بازو پر مارا اور ہاتھ کو اُٹھا کر نبض پر ہاتھ رکھا۔اور فرمایا آپ گھبراتے کیوں ہیں۔آپ کو تو بخار نہیں ہے۔اگر آپ کو طاعون ہو جائے تو میرا سلسلہ ہی جھوٹا سمجھا جائے۔چونکہ حضرت صاحب ایسا الہام شائع کر چکے تھے کہ اس گھر میں رہنے والے سب طاعون سے محفوظ رہیں گے سوائے اُن کے جو متکبر ہوں۔اور مولوی محمد علی صاحب اُس وقت گھر کے اندر رہتے تھے اس واسطے ضرور تھا کہ اللہ تعالیٰ اُنہیں طاعون سے محفوظ رکھے۔حضرت صاحب کے ایسا فرمانے پر میں نے تعجب کے ساتھ پھر کھڑ کی میں سے ہاتھ بڑھایا تو دیکھا کہ فی الواقع بخار اترا ہوا تھا اور اس کے بعد مولوی صاحب کی طبیعت اچھی ہونے لگ گئی اور جلد تندرست ہو گئے۔حلفی اقرار جن دنوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ۱۹۰۴ء میں چند روز کے واسطے لاہور تشریف لے گئے تھے ایک سبز پوش فقیر نے اصرار کیا کہ آپ مجھے لکھ دیں۔کہ جو کچھ آپ نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے سب سچ ہے۔حضور نے فرمایا : ایک ہفتہ بعد آؤ ہم لکھ دیں گے جب ایک ہفتہ کے بعد وہ آیا تو حضور نے یہ الفاظ لکھ کر اور اپنی مہر لگا کر اُسے دیئے۔میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر جو جھوٹوں پر لعنت کرتا ہے یہ گواہی دیتا ہوں کہ جو کچھ میں نے دعوی کیا ہے یا جو کچھ اپنے دعویٰ کی تائید میں لکھا ہے یا جو میں نے الہام الہی اپنی کتابوں میں درج کئے ہیں وہ سب صحیح ہے سچ ہے اور درست ہے۔والسلام علی من اتبع البدنی الراقم خاکسار مرزا غلام احمد مہر