ذکر حبیب — Page 96
96 تعالیٰ سے وحشت اور نفرت کی بجائے محبت اور کشش پیدا ہوگی۔نماز کے اندر کوئی ضروری کام نومبر ۱۹۰۴ ء - حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں ایک سوال پیش ہوا جو بمع جواب درج ذیل ہے: کہ اگر ایک احمدی بھائی نماز پڑھ رہا ہو اور باہر سے اس کا افسر آ جاوے اور دروازہ کو ہلا ہلا کر اور ٹھونک ٹھونک کر پکارے اور دفتر یا دوائی خانہ کی چابی مانگے تو ایسے وقت میں اُسے کیا کرنا چاہئیے۔جواب۔حضرت اقدس نے فرمایا : کہ ایسی صورت میں ضروری تھا کہ وہ دروازہ کھول کر چابی افسر کو دے دیتا۔( یہ ہسپتال کا واقعہ ہے اس لئے فرمایا ) کیونکہ اگر اس کے التوا سے کسی آدمی کی جان چلی جاوے۔تو یہ سخت معصیت ہو گی۔احادیث میں آیا ہے کہ نماز میں چل کر دروازہ کھول دیا جاوے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ایسے ہی اگر بچے کو کسی خطرہ کا اندیشہ ہو یا کسی موذی جانور سے جو نظر پڑتا ہو ضرر پہنچتا ہو۔تو بچے کو بچانا اور جانور کو مار دینا اس حال میں کہ نماز پڑھ رہا ہے گناہ نہیں ہے اور نماز فاسد نہیں ہوتی۔بلکہ بعضوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ گھوڑ اکھل گیا ہو۔تو اُسے باندھ دینا بھی مفسد نماز نہیں ہے کیونکہ وقت کے اندر نماز تو پھر بھی پڑھ سکتا ہے۔پیشگوئی متعلق کو ریا جب ۱۹۰۴ء میں روس اور جاپان کے درمیان جنگ چھڑی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو الہام ہوا ' ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت اور اسی الہام کے مطابق بالآخر جاپان کو فتح حاصل ہوئی اور کوریا میں سے روس کو نکلنا پڑا۔بخار فوراً اُتر گیا مئی ۱۹۰۴ ء کا واقعہ ہے کہ قادیان میں طاعون تھا اور کئی ایک ہندو اور غیر احمدی گھمار وغیرہ اس کا شکار ہوتے تھے کہ ایک دن مولوی محمد علی صاحب کو بخار ہو گیا۔رفتہ رفتہ بخار کی شدت ایسی سخت ہوئی کہ مولوی صاحب نے گھبرا کر یہ سمجھا کہ اُنہیں طاعون ہو گیا ہے۔اس واسطے اُنہوں نے مجھے بلایا تا کہ کچھ وصیت کی باتیں کریں۔اُس وقت مولوی محمد علی صاحب اس کمرے میں رہتے تھے جو مسجد مبارک کے اوپر کی چھت کے ہموار حضرت صاحب کے مکان کے ایک کمرے کے اوپر نیا کمرہ بنا ہوا تھا۔یہ کمرہ ابتدا مولوی محمد علی صاحب کی خاطر ہی بنوایا گیا تھا جبکہ وہ لا ہور سے قادیان چلے آئے تھے۔اس کمرے کی ایک کھڑ کی گول کمرے کی اُوپر کی چھت جانب جنوب پر کھلتی تھی جو مسجد