ذکر حبیب — Page 72
72 اور دشمن کا ادبار اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ یہ امور خدا تعالیٰ کی طاقت اور قدرت سے ظہور میں آئے اور اس طرح تصدیق نبوت کے لئے نہایت ہی احسن ذریعہ پیشگوئی ہے جس میں اپنی فتح اور دشمن کی شکست کا بیان ہو۔خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کو بھی یہی معجزہ عطا کیا ہے۔ہر ایک چیز کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔سُورج صبح کے وقت نکلتا ہے۔اگر شام سے انسان سورج کی تلاش شروع کر دے تو اُسے صبر سے صبح تک انتظار کرنا چاہئیے۔اگر وہ بے صبری کرے اور تھوڑی دیر انتظار کر کے تھک جائے اور کہے کہ میں نے بہت تلاش کی کوئی سورج موجود نہیں ہے تو وہ غلطی کرتا ہے۔اسی طرح لڑکے کے پیدا ہونے کے لئے 9 مہینہ کی مہلت چاہئیے۔اگر کوئی چاہے کہ دو تین دن کے اندر ہی بچہ تیار ہو کر پیدا ہو جاوے تو وہ غلطی کرتا ہے اور نا مراد رہتا ہے۔اسی طرح اس راہ میں بھی جلد بازی نہیں کرنی چاہئیے۔جو حد بندی کرتا ہے وہ محروم رہتا ہے۔طلبگار باید صبور وحلول مہوس کیمیا کی تلاش میں جو بالکل ایک وہمی اور بے حقیقت چیز ہے ملول نہیں ہوتا ہے۔کہتے ہیں کہ ارادت کے ساتھ جانا آسان ہے مگر ارادت کے ساتھ واپس آنا مشکل ہے۔اگر کوئی شخص صرف تھوڑی دیر کے لئے کسی ولی کی صحبت میں بیٹھے تو ممکن ہے کہ اس سے ایسے امور سرزد ہوتے ہوئے دیکھے جو اُس کی نظر میں بُرے اور مکروہ ہوں اور اس طرح بدظنی لے کر واپس آ جائے۔اگر کوئی آجکل کا درویش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف ایسی حالت میں دیکھتا ، جب آپ سب سے بڑھ بڑھ کر تلوار چلا رہے ہوتے تو وہ بد اعتقاد ہو جاتا اور یہی سمجھتا کہ ایسے شخص کو روحانیت سے کیا نسبت ہو سکتی ہے۔اس لئے ایک مدت تک راستبازوں کی صحبت میں بیٹھنا چاہئیے یہاں تک کہ کوئی ایسی تقریب اور موقع - اس کو حاصل ہو جس سے اس کو شرح صدر حاصل ہو جاوے اور ایک نور اُس کے دل پر گرے۔(۴) بدظنی - انسان دوسرے شخص کے دل کی ماہیت معلوم نہیں کر سکتا اور اس کے قلب کے مخفی گوشوں تک اُس کی نظر نہیں پہنچ سکتی۔اس لئے دوسرے شخص کی نسبت جلدی سے کوئی رائے نہ لگائے بلکہ صبر سے انتظار کرے۔ایک شخص کا ذکر ہے کہ اُس نے خدا تعالیٰ سے عہد کیا کہ میں سب کو اپنے سے بہتر سمجھوں گا اور کسی کو اپنے سے کمتر خیال نہیں کروں گا۔( اپنے محبوب کے راضی کرنے کے لئے انسان ایسی تجویز میں سوچتے رہتے ہیں)۔ایک دن اُس نے ایک دریا کے پل کے پاس جہاں پر بہت آدمی گزر رہے تھے ایک شخص بیٹھا ہوا دیکھا اور اس کے پہلو میں ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ایک بوتل اس شخص کے ہاتھ میں تھی۔آپ پیتا تھا اور اس عورت کو پلاتا تھا۔اس نے اس پر بدظنی کی اور خیال کیا کہ میں اس بے حیا سے تو ضرور بہتر ہوں۔ایک کشتی آئی اور سواریوں کے ساتھ وسط