ذکر حبیب — Page 59
59 اپنے آپ کو منوانے کی ضرورت ۱۸۹۹ء۔جب مولوی محمد علی صاحب قادیان میں تھے اور عاجز راقم ہنوز لاہور دفتر اکو نٹنٹ جنرل میں ملازم تھا۔ان ایام میں مولوی محمد علی صاحب نے مجھے قادیان سے ایک خط لکھا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کچھ کلام درج کیا۔اُس خط کا ایک حصہ مضمون اس عنوان پر ہے۔اس واسطے درج ذیل کیا جاتا ہے۔بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم نَحْمدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم برا در صادق - اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ مولوی صاحب تو چند روز کے لئے سیالکوٹ تشریف لے گئے اور پیر سراج الحق صاحب خط و کتابت کا کام کرتے ہیں۔لیکن میرے جی میں آیا کہ حضرت اقدس کی ایک دو باتیں جن سے میرے دل کو خوشی اور میری رُوح کو تازہ ایمان نصیب ہوا، مفتی صاحب کو سُنا دوں۔شاید اگر ان کو بھی خوشی ہو تو فتویٰ دے دیں کہ یہ شخص دعا کے لائق ہے اس لئے دعا کی جائے۔پرسوں شام کے وقت ایک صاحب بٹالہ سے آئے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ آج کل لوگ حضور پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ سب کچھ جو کر رہے ہیں ، اپنے لئے کر رہے ہیں۔یعنی کتابوں میں اپنے ہی دعوی کا ذکر ہے اور اسی کی تائید ہوتی ہے۔اسلام کے لئے کچھ نہیں کرتے۔اس پر حضرت اقدس نے ایک بڑی لمبی تقریر جو طرح طرح کے معارف سے پر تھی فرمائی۔ایسے حافظے پر افسوس آتا ہے کہ سوائے ایک دو باتوں کے کچھ یاد نہ رہا۔فرمایا یہ اعتراض تو صرف ہم پر نہیں آتا سارے سلسلہ نبوت پر آتا ہے۔ہر نبی جو آیا پہلے اپنے آپ کو ہی منواتا رہا۔سب نے یہی کہا کہ اطِیعُون۔میری پیروی کرو تو کیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے۔کہ وہ تمام نبی بھی اپنے لئے یہ سب مصیبتیں اُٹھاتے تھے بلکہ یہ کم نہی ہے۔دیکھنا چاہئیے کہ اس اپنے آپ کو منوانے میں ان کا مقصد اور مدعا کیا تھا۔سوائے اس کے کچھ نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف بلائیں۔اسی طرح پر ہم جو اپنی تائید میں باتیں پیش کرتے ہیں تو اس سے کیا ہمارا یہ مدعا ہوتا ہے کہ اپنی پرستش کرائیں یا کوئی اپنا قبلہ قائم کریں یا اپنی نماز پڑھوائیں یا ہماری ساری کارروائیوں کا آخری مدعا اسلام کی طرف بلانا ہوتا ہے۔کیا ہم اپنی ذات کے لئے کچھ کر رہے ہیں یا جو کچھ ہم کرتے ہیں اسلام کے لئے کرتے ہیں جو نشان ہم دکھلانے کا دعویٰ کرتے ہیں اس سے بھی مدعا اسلام کی ہی تائید ہوتی ہے۔لیکن اگر اس ہمارے اپنے دعوے کی آپ تائید کرنے