ذکر حبیب

by Other Authors

Page 53 of 381

ذکر حبیب — Page 53

53 حیران رہ جاتا ہے۔ایک پھول کی بناوٹ پر غور کریں تو بے اختیار سُبحان اللہ کہنا پڑتا ہے۔المختصر سُبحان الله و بحمدہ کا مضمون جیسا ہم نے کہا ایک ثابت شدہ صداقت ہے۔اس کا مفہوم اور مطلب کیا ہے، پس یہ کہ ہر عیب و نقص سے منزہ اور متبرا اور تعریف اور ستائیش کے قابل صرف ایک ہی ذات ہے جس کا نام اللہ ہے۔پھر دوسرا جز و سبحان الله العظيم ہے کہ تمام عظمت وعزت اُسی کو شایاں ہے جو مندرجہ بالا صفات سے موصوف ہے۔وہ خدا جو تمام خوبیاں اپنے اندر نہیں رکھ سکتا یا نہیں رکھتا وہ ناقص ہے اور تسبیح، تحمید اور تعظیم کے مراتب اُس کی شان کے لائق نہیں ہو سکتے۔مثلاً اگر کوئی خدا ایسا ہو کہ وہ ایک ذرہ بھی دُنیا میں پیدا نہ کر سکے، یا کسی اپنے اعلیٰ درجہ کے ہمہ تن محو پر کمی اور بھگت کو بھی ہمیشہ کے لئے نجات کا وارث اور نور کا فرزند نہ بنا سکے تو وہ سُبحان الله و بـحـمـدہ کا مصداق کہاں ہوا۔اس کے لئے وہ عظمت تامہ کا درجہ کہاں نصیب تو پھر بتلاؤ کہ کیا ایک آریہ یہ اعتقاد رکھ کر سبحان الله و بحمده سبحان الله العظیم خُدا کا قائل ہو سکتا ہے؟ کبھی نہیں۔یا مثلاً بر ہمو کہتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے انسان پر اپنی مرضی اپنے کلام کے ذریعہ ظاہر نہیں فرمائی تو وہ کیونکر تی الہی کا مدعی ہو سکتا ہے؟ اور اپنے دل کو عظمت الہی کے تخت کے سامنے جھکا سکتا ہے۔نادان عیسائی جبکہ مانتا ہے کہ خدا عادل ہے، پر اوروں کے بدلے اپنے اکلوتے بیٹے (معاذ اللہ ) کو پھانسی دلاتا ہے تو ایسے عدل اور رحم کا محتاج خدا کیا خُدا ہوسکتا ہے ہرگز نہیں۔پھر رافضی جو خدا کو ایسا خدا مانتا ہے کہ وہ اپنے پاک اور مقدس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد سے قاصر رہا اور اس کے گردا گرد ( نقل کفر کفر نباشد ) منافقوں کا گروہ جمع رہا، کب سبحان ن الله و بحمده سبحان الله العظیم کا لطف اُٹھا سکتا ہے؟ ممکن نہیں۔ہے۔پس سبحان الله و بحمده سبحان الله العظیم کہتے ہو تو اللہ تعالیٰ کی عظمت اور قدوسیت کے سامنے سجدہ کرو۔اُسے وحدہ لا شریک مانو - کسی کو خواہ وہ کوئی ہی کیوں نہ ہو اس کی سی عظمت اور قدرت نہ دو۔وہ خالق کل شے ہے۔پھر کوئی دوسر اخلق اللہ کب خلق کر سکتا احیاء موتے خدا کے ہاں اس خدا کی جو سبحان الله و بحمده سبحان الله العظیم کا مصداق ہے، صفت ہے۔پھر عاجز مسیح مُردے کیونکر زندہ کر سکتا ہے اور پھر اسی طرح جیسے خدا کرتا ہے۔غرض خدا کی حکومت کا جوا گردن پر رکھو۔اس کی عظمت کے ماتحت چلو راحت اسی میں ہے۔اللہ تعالیٰ ہم کو اور ہمارے پڑھنے والے احباب کو توفیق دے کہ ہم سبحان اللہ و بحمدہ اور سبحان اللہ