ذکر حبیب

by Other Authors

Page 52 of 381

ذکر حبیب — Page 52

52 طاعون سے بچنے کی تسبیح ایام طاعون میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام نے کلمہ سبحان الله و بحمده سبحان الله العظيم ، بہت پڑھنے کی تاکید فرمائی تھی اور تمام احمدی مردوں اور بچوں کے منہ میں اُن ایام میں یہ کلمہ جاری رہتا تھا۔انہی ایام میں اڈیٹر صاحب الحکم نے اس کلمہ پر ایک لطیف مضمون بھی لکھا تھا۔اس کا اقتباس درج ذیل کیا جاتا ہے : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ مندرجہ بالا دو باتیں میزان عمل میں بہت وزن رکھتی ہیں اور ان ہر دو کلمات کے اجزاء گویا ثابت شدہ صداقتیں ہیں اور ان پر کسی بحث کی ضرورت نہیں پڑتی۔دُنیا کی ہر ایک چیز خواہ وہ زمین میں ہے یا اوپر آسمان میں اللہ تعالیٰ کی تنزیہیہ اور تحمید کر رہی ہیں۔خود لفظ اللہ جواللہ تعالیٰ کا اسم اعظم اور ذاتی نام ہے تمام محامد کو اپنے اندر رکھتا ہے اور تمام نقائص سے اپنے تئیں ممبر اٹھہراتا ہے۔کسی نے سچ کہا ہے کہ ہر گیا ہے کہ ازز میں روید وحدہ لا شریک لہ گوید ان جڑی بوٹیوں کو دیکھو جو خاک کی ڈھیری سے پیدا ہوتی ہیں بلکہ بعض اوقات بر از کی کھاد کے اندر سے نکلتی ہیں لیکن کیسی مصفا اور خوش رنگ ہوتی ہیں۔جن کو دیکھ کر آنکھوں میں طراوت اور دل میں قوت آتی ہے۔یہ کس کی تسبیح ہو رہی ہے؟ اُسی ذات پاک کی۔انسان کے اندر غور کرو کیسا تنزیہ کا سلسلہ جاری ہے۔خون الگ ہو رہا ہے۔بول الگ ہو رہا ہے۔براز کے لئے الگ راہ ہے۔پسینہ الگ نکل جاتا ہے۔پھر وہی خون کسی حصہ میں پہنچ کر انسان کی پرورش کا ذریعہ بنتا ہے اور ماں کی چھاتیوں میں سے مصفا دودھ کی نہروں پر مشتمل ہوتا ہے۔لیکن کیا مجال کہ اس دودھ میں وہ خون کی سی حدت وسُرخی ہو جو بالطبع انسان کو نفرت دلاتی ہے۔کسی حصہ میں پہنچ کر انسان کی اصل یعنی نطفہ ہوتا ہے جس سے عالی خیال، پر غور طبیعت کا انسان بن جاتا ہے۔کیا یہ ہر چیز خدا کی تسبیح اور تنزیہ نہیں کرتی ؟ بے شک کرتی ہے اور ہر آن کرتی ہے۔مویشیوں کو دیکھو کہ وہ گھاس پھوس کھاتے ہیں لیکن اُن کی اندرونی مشین اس گھاس سے گوبر الگ اور دودھ الگ نکال کے رکھ دیتی ہے۔بتلاؤ تو سہی یہ تنزیہ الہی نہیں تو کیا ہے؟ پھر دودھ کو دیکھو کہ اس کا خلاصہ یا عطر کبھی بالائی کی شکل میں نمودار ہوتا ہے اور کبھی مکھن بن کر جلوہ گر ہوتا ہے۔غرض جدھر دیکھو اُدھر ہی سے سُبحان الله و بحمدہ کی آواز کان میں آئے گی مگر کان سننے والے ہوں۔درختوں پر نظر کرو کیسے کیسے خوشنما پھل پھول کس ترتیب اور انداز سے نکلتے ہیں کہ انسان