ذکر حبیب

by Other Authors

Page 48 of 381

ذکر حبیب — Page 48

48 اللہ تعالیٰ کوکسی کی پرواہ نہیں۔ہزاروں بھیڑ اور بکریاں روز ذبح ہوتی ہیں پر ان پر کوئی رحم نہیں کرتا ، لیکن اگر ایک آدمی مارا جاوے تو بڑی باز پرس ہوتی ہے۔سو اگر تم اپنے آپ کو درندوں کی مانند بیکاراور لاپر واہ بناؤ گے تو تمہارا بھی ایسا ہی حال ہوگا۔چاہیئے کہ تم خدا کے عزیزوں میں شامل ہو جاؤ تا کہ کسی و با کو یا آفت کو تم پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ ہو سکے کیونکہ کوئی بات اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر زمین پر ہو نہیں سکتی۔ہر ایک آپس کے جھگڑے اور جوش اور عداوت کو درمیان میں سے اُٹھا دو کہ اب وہ وقت ہے کہ تم اد نے باتوں سے اعراض کر کے اہم اور عظیم الشان کاموں میں مصروف ہو جاؤ۔لوگ تمہاری مخالفت کریں گے اور انجمن کے ممبر تم پر ناراض ہوں گے پر تم اُن کونرمی سے سمجھاؤ اور جوش کو ہرگز کام میں نہ لاؤ۔یہ میری وصیت ہے اور اس بات کو وصیت کے طور پر یا درکھو کہ ہرگز تندی اور سختی سے کام نہ لینا بلکہ نرمی اور آہستی اور خلق سے ہر ایک کو سمجھاؤ اور انجمن کے ممبروں کے ذہن نشین کراؤ کہ ایسا میموریل فی الحقیقت دین کو نقصان دینے والا امر ہے اور اسی واسطے ہم نے اس کی مخالفت کی کہ دین کو صدمہ پہنچتا ہے۔“ اس کے بعد میں نے اپنی جماعت لاہور کی کمزوری کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے واسطے خاص دُعا کے لئے درخواست کی اور اس مضمون کو اخبار میں دے کر چھپوایا۔ہر ایک کو جو اس کو پڑھے پاٹنے اُس کے آگے ہماری درخواست ہے کہ وہ ہمارے لئے خاص طور پر دُعا کرے کہ ہم پنجاب کے صدر مقام میں ہیں۔جلسه انسداد طاعون جب ۱۸۹۸ء میں پنجاب میں طاعون پھیلا اور گورنمنٹ نے طاعون سے بچنے کے واسطے بعض ہدایات مثلاً کھلی ہوا میں رہنا ، ٹیکہ کرانا وغیرہ شائع کیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عید الضحی کی تقریب پر ۲ رمئی ۱۸۹۸ء بعد نماز عید ایک جلسہ کیا اور لوگوں کو اُن ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی جو گورنمنٹ پنجاب نے شائع کی تھیں۔یہ عید اور جلسہ اُس بڑ کے نیچے کیا گیا جو قادیان کے شرقی جانب پل کے پاس تکیہ حسیناں میں واقع ہے۔اس جلسہ میں حاضرین کے ناموں کی فہرست تیار کرنے کا کام میرے سپرد ہوا تھا۔قتل لیکھرام جس دن لیکھرام لاہور میں قتل کیا گیا ہے اُس دن میں لاہور میں تھا اور حضرت مولوی