ذکر حبیب

by Other Authors

Page 41 of 381

ذکر حبیب — Page 41

41 صاجب نے صاف لکھ دیا تھا کہ مسلمانوں میں جو مہدی کے آنے کا عقیدہ ہے اس کے لئے کوئی صحیح سند نہیں ہے اور اسی طرح مہدی کے آنے کے عقیدہ کا انکار کیا تھا۔ڈاکٹر صاحب موصوف یہ استفتاء غیر احمدی علماء کے پاس لے کر گئے۔دہلی اور امرتسر کے جتنے بڑے بڑے علماء ہیں ان سب نے یہ سمجھ کر کہ یہ استفتاء مرزا صاحب کے متعلق ہے بڑی خوشی سے یہ فتویٰ لکھ دیا کہ مہدی کے آنے کے عقیدہ کا منکر کا فر ہے۔جب یہ فتویٰ شائع ہوا اور مولوی محمد حسین صاحب کی تحریروں پر اس کو چسپاں کیا گیا اور مولوی محمد حسین ان علماء کے پاس جا کر رو یا پیٹا کہ مرزا کے مرید چالاکی کے ساتھ تم سے میرے خلاف فتویٰ لکھا لے گئے ہیں۔تب اُن میں سے بعض وہابی علماء نے یہ شائع کیا کہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ڈاکٹر اسمعیل جو استفتاء لے کر آیا تھا ، مرزا صاحب کا مرید تھا اور ہم نے جو فتوے دیا تھا وہ مرزا صاحب کے خلاف دیا تھا مولوی محمد حسین صاحب کے خلاف نہیں دیا تھا۔علمائے اہلحدیث کی اس حرکت پر لوگ بہت متعجب ہوئے۔لیکن حنفی علماء نے شائع کیا کہ ہم لوگ اپنے فتوے اپر قائم ہیں خواہ وہ مولوی محمد حسین پر پڑے یا کسی دوسرے پر۔۱۸۹۸ء عظیم الشان خوشخبری غالبا ۹۸ - ۱۸۹۷ء کا ذکر ہے۔ایک دفعہ میں لاہور سے قادیان آیا ہوا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس حضور کے اندر کے کمرے میں بیٹھا تھا کہ باہر سے ایک لڑکا پیغام لایا کہ قاضی آل محمد صاحب آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک نہایت ضروری پیغام لایا ہوں ، حضور خودسُن لیں۔حضور نے مجھے بھیجا کہ اُن سے دریافت کرو کیا بات ہے۔قاضی صاحب سیٹرھیوں میں کھڑے تھے۔میں نے جا کر دریافت کیا۔انہوں نے کہا کہ مجھے حضرت مولوی محمد احسن صاحب نے بھیجا ہے۔ایک نہایت ہی عظیم الشان خوشخبری ہے اور خود حضرت صاحب کو ہی سُنانی ہے۔میں نے پھر جا کر عرض کیا کہ وہ ایک عظیم الشان خوشخبری لائے ہیں اور صرف حضور کو ہی سُنانا چاہتے ہیں۔حضور نے فرمایا آپ پھر جائیں اور انہیں سمجھا ئیں کہ اس وقت مجھے فرصت نہیں۔وہ آپ کو ہی سُنا دیں اور آپ آ کر مجھے سُنا دیں۔میں نے حکم کی تعمیل کی اور قاضی آلِ محمد صاحب کو سمجھایا کہ وہ خوشخبری مجھے سنا دیں میں حضرت صاحب کو سنا دیتا ہوں۔تب قاضی صاحب نے ذکر کیا کہ ایک مولوی کا مباحثہ حضرت مولوی محمد احسن صاحب کے ساتھ تھا اور اُس مولوی کو خوب پچھاڑا اور لتاڑا