ذکر حبیب

by Other Authors

Page 35 of 381

ذکر حبیب — Page 35

35 اب اور کوئی شخص نہ لکھے۔اسی طرح پر ساری انجیل مفتی صاحب لکھ کر مجھے دیں۔اس انجیل کو کبھی کبھی رات کے وقت فرصت پا کر دیکھا کرتے۔لیکن کچھ عرصہ کے بعد ایک دن سیر میں فرمایا کہ میں نے خود انگریزی پڑھنے کے ارادہ کو ترک کر دیا ہے تا کہ یہ ثواب ہمارے انگریزی خوان دوستوں کے واسطے مخصوص رہے۔عبرانی پڑھنے کا خیال ایسا ہی ایک دفعہ حضرت صاحب نے عبرانی زبان کے سیکھنے کا بھی ارادہ کیا اور حضوڑ کے فرمانے پر میں نے ایک عبرانی قاعدہ اُردو میں تالیف کر کے پیش نظر کیا جس کو حضرت صاحب گا ہے گا ہے فرصت کے وقت دیکھا کرتے تھے مگر بعد میں جلدی اس خیال کو بھی چھوڑ دیا۔۱۸۹۶ حبس سے تپش بہتر غالباً ۹۷-۸۹۶ و بیسویں صدی عیسوی کے ابتدائی دس سالوں تک لاہور، امرتسر اور ہندوستان کے بعض دوسرے شہروں میں ایک دو گھوڑے والی بند گاڑی کرایہ پر چلا کرتی تھی جو اس وقت سیکنڈ کلاس کی گاڑی کہلاتی تھی اور اُس کے چاروں طرف سے بند ہو سکنے کے سبب عموماً پردہ دار عورتوں کی سواری کے واسطے اس کا استعمال کیا جاتا تھا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام بھی اپنے اہل وعیال کے ساتھ اُس میں سوار ہوا کرتے تھے۔ایک دفعہ لاہور میں حضرت ام المومنین کے ہمراہ آپ اُس میں سوار ہونے لگے تو ایک دوست نے پردے کے خیال سے اُس کی شیشے دار کھڑکیاں سب پہلے سے بند کر رکھی تھیں۔جب حضوڑ اندر بیٹھ گئے اور دروازے سب بند ہونے سے اندر تاریکی اور گرمی ہو گئی تو حضور نے زور سے اُس کے دروازوں کو اندر سے لکڑی کے ساتھ مارا اور کھلوا دیا تا کہ روشنی اور ہوا کھلی رہے۔اگر چہ گرمی کا موسم تھا اور ہوا بھی گرم تھی مگر فر مایا و کھسٹر نالو ہمسٹر چنگا یہ ایک پنجابی زبان کی ضرب المثل ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ تپش میں رہنا اس سے بہتر ہے کہ انسان جبس اور تنگی میں گرفتار ہو۔حضرت کے عمامہ کا کپڑا غالباً ٨٩ ا ء یا ۱۸۹۷ء کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ میں لاہور سے قادیان آیا اور میری والدہ مرحومہ بھی میرے ساتھ تھیں جو بھیرے سے حضرت صاحب کی بیعت کے لئے تشریف لائی تھیں اور اُسی سال انہوں نے حضرت صاحب کی بیعت کی تھی۔جب ہم واپس ہونے لگے تو حضرت صاحب