ذکر حبیب — Page 339
339 کرتے۔کہ اس سے پہلے کچھ نہ تھا اور جو کچھ ہے۔اسی آدم سے ہے۔اور نہ ہم اس بات کے قائل ہو سکتے ہیں۔کہ یہ زمانہ چند ہزار برس سے ہے۔بلکہ پہلے سے یہ سلسلہ چلا آتا ہے۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے۔کہ امریکہ والے اسی آدم کی اولاد ہیں۔محی الدین عربی لکھتے ہیں۔میں حج کو گیا کشف میں دریافت کیا کہ یہ آدم ہے جواب ملا۔تو کس آدم کی تلاش کرتا ہے؟ ہزاروں آدم گزر چکے ہیں۔ڈارون تھیوری پروفیسر : آیا حضور مسئلہ ارتقاء کے قائل ہیں۔اور اگر یہ مانتے ہیں تو پھر روح کب پیدا ہوئی۔مسیح موعود : ہمارا مذ ہب یہ نہیں۔کہ انسان کسی وقت بند ر تھا۔ہم قائل ہو سکتے ہیں اگر کوئی ایسا بندر پیش کیا جائے جو رفتہ رفتہ انسان بن گیا ہو۔ہم ایسے قصوں پر اپنے ایمان کی بنیاد نہیں رکھ سکتے۔موجودہ زمانہ کا عام نظارہ جو ہے ، وہ یہی ہے کہ بندر سے بندر پیدا ہوتا ہے۔اور انسان سے انسان۔پس جو اس کے خلاف ہے۔وہ قصہ ہے۔واقعی بات یہی معلوم ہوتی ہے۔انسان ہی سے انسان پیدا ہوتا ہے۔پہلے دن آدم ہی بنا تھا۔ہر ایک جنس کا ارتقاء اس کی اپنی جنس میں ہو رہا ہے۔روح کے متعلق ہمارا یہ مذہب ہے کہ وہ ایک مخلوق چیز ہے جو اسی عصری مادہ سے پیدا ہوتی ہے۔اس کے نظائر ہم نے چشمہ معرفت میں دیئے ہیں۔یہی قرآن شریف کی تعلیم ہے اور یہی ڈاکٹری تشریحوں سے معلوم ہوتا ہے۔وہی نطفہ جو ہوتا ہے۔اس میں رُوح ہوتی ہے۔وہ نشو ونما ترقی پاتی پاتی بڑی ہو جاتی ہے۔جبھی تو فرمایا تمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ۔یہ بات بالکل صحیح نہیں کہ رُوح ابتداء سے چلی آتی ہے۔اس طرح خدا تعالیٰ کی حکمت پر بہت سے اعتراض ہوتے ہیں۔پس ہم کسی ثابت شدہ سچائی سے انکار نہیں کر سکتے۔اسلام سائنس کے مطابق پروفیسر: مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ کا مذہب سائنس کے مطابق ہے۔مسیح موعود : اسی لئے تو خدا نے ہمیں بھیجا۔تاہم دنیا پر ظاہر کریں کہ مذہب کی کوئی بات کچی اور ثابت شدہ حقیقت سائنس کے خلاف نہیں۔تا ثیر اجرام سماوی پروفیسر: امریکہ میں بعض لوگ ہیں۔ان کی رائے ہے کہ جو زندگی ہے وہ چاند سے اُتری